ایران اور سوئیٹزر لینڈ کے صدورکا ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے پر زور

بدھ جولائی 12:00

برن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جولائی2018ء) ایران صدر حسن روحانی اوران کے سوئس ہم منصب آلین برسیٹ نے ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے پر زوردیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کا تحفظ عالمی امن وسلامتی کے حق میں ہے۔ایرانی خبر رسان ادارے کے مطابقایران اور سوئیزرلینڈ کے صدور نے برن شہر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ایٹمی معاہدے کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اس سمجھوتے کا تحفظ عالمی امن و سلامتی کے لئے اہم ہے۔

حسن روحانی نے کہا کہ سوئس ہم منصب کے ساتھ مذاکرات میں ایک اہم موضوع ایٹمی معاہدہ تھا جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس معاہدے کے تمام فریق اس پر عمل کریں کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی سلامتی کونسل نے بھی اپنی قرارداد بائیس اکتیس کے ذریعے توثیق کی ہے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ جب تک اس معاہدے سے ایران کے مفادات پورے ہوتے رہیں گے اور ان کو اس کی ضمانت ملتی رہے گی ایران اس میں باقی رہے گا۔

حسن روحانی نے ایران اور سوئیٹزرلینڈ کے درمیان سائنس، طب اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کے تین سمجھوتوں پر دستخط کے پریس کانفرنس میں اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ملکوں کے مالی بینکاری، تجارتی، سرمایہ کاری سیاحتی اور ثقافتی تعاون اور تعلقات پہلے سے بھی زیادہ فروغ پائیں گے۔سوئیٹزرلینڈ کے صدر نے بھی اس مشترکہ پریس کانفرنس میں اقتصادی، مالی، سائنسی، تکنیکی اور امیگریشن کے شعبوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں توسیع کے روڈ میپ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے صدر کے ساتھ ملاقات میں مختلف مسائل منجملہ ایٹمی معاہدے اور اس معاہدے سے امریکا کے نکل جانے کے بعد کی صورت حال پر بات چیت ہوئی۔

سوئیٹزرلینڈ کے صدر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ان کا ملک ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کا پابند ہے اور اس کی سلامتی کونسل نے بھی توثیق کی ہے۔