مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کی تحقیقات کیلئے تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ

بدھ جولائی 12:10

جنیوا ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جولائی2018ء) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جنیوا میں ہونے والی38 ویںاجلاس کے موقع پر منعقدہ ایک کانفرنس میں مقبوضہ کشمیرمیں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالیوں کی تحقیقات کیلئے ایک آزادانہ انکوائری کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ’’ انسانی حقوق کے ہمہ گیر اعلامیہ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق عالمی سطح پر انسانی حقو ق اور لوگوں کے حق خودارادیت کا تحفظ ‘‘ کے موضوع پر کانفرنس کا اہتمام انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن آف امریکن مینارٹیز نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی کمیشن،، انڈجنس پیپلز اینڈ نیشنز کولیشن اور کوانی فائونڈیشن کے تعاون سے کیا تھا۔

کانفرنس کی میزبانی عبدالمجید ترمبو نے کی جبکہ اس موقع پر پروفیسر نذیر احمد شال، سفیر رونالڈ بارنیس، پروفیسر الفریڈ دی زیاس، فرینک شوالبا اورلیون کوالہو سوئی بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

بیرسٹر عبدالمجید ترمبو نے اپنے خطاب میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر زید رعدالحسین کی طرف سے جموںوکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے بارے میں حالیہ رپورٹ اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقو ق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے ایک آزادانہ تحقیقاتی کمیشن کے قیام کی سفارش کا خیر مقدم کیا۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 39ویں یا40اجلاس کے موقع پر زید رعد الحسین کی رپورٹ پرایک پینل مباحثہ منعقد کرایا جانا چاہیے ۔پروفیسر نذیر احمدشال نے کہاکہ زید رعدالحسین کی رپورٹ جموںوکشمیر کے عوام انسانی حقوق اور بنیادی حقوق کی آزادیوں کے تحفظ کی آئینہ دار ہے ۔ سابق رکن پارلیمنٹ فرینک شوالبا ، سفیر رونالڈ بارنیس اورپروفیسر الفریڈ دی زیا س نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیراور نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے پروفیسر ترمبو م اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر اور دیگر کی کوششوں کو سراہا۔

انسانی حقوق کمیٹی کے سیکریٹری پروفیسر الفریڈ دی زیا س نے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی تحقیقات کیلئے تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کے مطالبے کی حمایت کی ۔ انہوںنے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ پر زوردیتے ہوئے کہاکہ مسئلہ کشمیر 1947سے عالمی ادارے کے ایجنڈے پر موجود ہے اور اس دیرینہ تنازعے کے حل میں ناکامی پر اقوام متحدہ پر تنقید کی ۔ انہوںنے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کہاکہ وہ کشمیر کے بارے میں منظور کی گئی قراردادوںپر نظرثانی کرے کیونکہ ان پر کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی عمل نہیں ہو سکا ہے۔