اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقو ق کے کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنائے، سید فیض نقشبندی

بدھ جولائی 12:10

جنیوا ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جولائی2018ء) کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماء سید فیض نقشبندی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر زوردیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے والے انسانی حقوق کے علمبرداروںکابھارت کی طرف سے خوف و ہراس اور انتقامی کارروائیوں سے تحفظ یقینی بنائے ۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سید فیض نقشبندی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 38 ویں جاری اجلاس کے دوران پیش کئے گئے بیان میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کے ساتھ تعاون کرنے والے مقبوضہ کشمیر کے انسانی حقوق کے علمبرداروں پر بھارت کی طرف سے بڑھتے ہوئے دبائو اور انتقامی کارروائیوں پرشدید تشویش ظاہر کی ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ بھارت نے ہائی کمشنر کی طرف سے ستمبر 2016کے بعد سے باربار درخواستوں کے باوجود اقوام متحدہ کی ٹیم کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہیں دی ہے اور جب عالمی ادارے کے ہائی کمشنر نے گزشتہ ماہ کی چودہ تاریخ کو جموںوکشمیر کے بارے میں اپنی رپورٹ جاری کی ہے تو بھارت نہ صرف اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے بلکہ وہ انسانی حقوق کی پامالیوں کیلئے تحقیقاتی کمیشن کے قیام کی بھی مخالفت کر رہا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ بھارت نہیں چاہتا کہ دنیا کومقبوضہ کشمیرمیں اسکی فورسز کی طرف سے بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی پامالیوںکے بارے میں پتہ چلے ۔سید فیض نقشبندی نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کے ساتھ تعاون کرنے والے مقبوضہ کشمیر کے انسانی حقوق کے علمبرداروں پر بھارت کی طرف سے بڑھتے ہوئے دبائو اور انکے خلاف انتقامی کارروائیوں پرشدید تشویش ظاہر کی ۔

انہوںنے کہاکہ انسانی حقوق کے کارکنوںکے کام میں خلل ڈالنے کیلئے مقبوضہ علاقے میں اکثر انٹرنیٹ سروس معطل کر دی جاتی ہے ۔ انہوںنے انسانی حقو ق کونسل سے کہاکہ وہ اقوام متحدہ اور انسانی حقو ق کی دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے تعاون کرنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں کے بھارت کی انتقامی کارروائیوں سے تحفظ تحفظ کو یقینی بنائے ۔