انسانی حقو ق کمیشن نے دو نوجوانوں کے قتل پر پلوامہ ور اسلام آباد اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں اور ایس ایس پیز سے رپورٹ طلب کر لی

بدھ جولائی 12:10

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جولائی2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کمیشن نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں پلوامہ اور اسلام آباد کے اضلاع میں عید کے موقع پر دو نوجوانوں کے قتل پر دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنروںاور ایس ایس پیز کو 7اگست سے قبل مکمل تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے کہ ان شہریوںکو کیوں شہید کیاگیا ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس بلال نازکی نے یہ ہدایت انٹرنیشنل فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو کی طرف سے انسانی حقوق کمیشن میں دائر عرضداشت کی سماعت کے دوران جاری کی ۔

عرضداشت میں کمیشن سے عید کے موقع پر ان نوجوانوں کے قتل کی تحقیقات اور اصل حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیاگیا ہے ۔ عرضداشت میں نوجوانوںکے قتل میں ملوث اہلکاروں کو قانون کے خلاف سخت کارروائی پر بھی زوردیا گیا ہے ۔

(جاری ہے)

پلوامہ میں عید الفطر سے ایک روز قبل نائو پورہ پائین لاسی پورہ میںبھارتی فورسز کی فائرنگ میں ایک نوجوان وقاص احمد راتھر شہید اور ایک خاتون شدید زخمی ہو گئی تھی جبکہ عید دن ضلع اسلام آباد میںمظاہرین پر فائرنگ سے ایک نوجوان شیراز احمد شہید ہو گیا تھا ۔

اس دوران جھڑپوںاوربھارتی فورسز کی طرف سے پیلٹ گن کے استعمال کی وجہ سے متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے ۔ عرضداشت میں کہاگیا کہ بھارتی فورسز کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی وجہ سے شہریوں کا قتل اور انہیں زخمی کرنا روز کا معمول بن چکا ہے ۔لہذا بھارتی فورسز کو ہدایت دی جانی چاہیے کہ وہ مظاہرین سے نمٹنے کیلئے غیر ذمہ دارانہ اقدامات نہ کریں ۔

کمیشن سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ شہریوں کے قتل کی تحقیقات کیئلے مناسب حکم جاری کرے ۔ عرضداشت میں متعلقہ انتظامیہ کو متاثرین کو امدادی رقم کی فراہمی کی بھی درخواست کی گئی ہے ۔جسٹس بلال نازکی نے ڈپٹی کمشنر پلوامہ اور اسلام آبادکے علاوہ ایس ایس پی پلوامہ اور اسلام آباد کو نوٹسزجاری کرتے ہوئے 7اگست کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔