کرپٹ عناصر کے خلاف کیسز میں غیرضروری التواء برداشت نہیں کیا جائیگا،

نیب افسران مقدمات کو قانون کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں، بے لاگ اور بلا امتیاز کا روائیوں کا تسلسل آئندہ بھی اُسی قومی فریضے کی انجام دہی کے جذبے کے ساتھ جاری رہے گا، تمام مقدمات کو میرٹ ، شفافیت اور قانون کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے منطقی انجام تک لیجایا جائے چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کا نیب بلوچستان کے افسران سے خطاب

منگل جولائی 21:44

کرپٹ عناصر کے خلاف کیسز میں غیرضروری التواء برداشت نہیں کیا جائیگا،
کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جولائی2018ء) قومی احتساب بیورو ((نیب )) کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ کرپٹ عناصر کے خلاف کیسز میں غیرضروری التواء برداشت نہیں کیا جائیگا،نیب افسران مقدمات کو قانون کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں، بے لاگ اور بلا امتیاز کا روائیوں کا تسلسل آئندہ بھی اُسی قومی فریضے کی انجام دہی کے جذبے کے ساتھ جاری رہے گا، تمام مقدمات کو میرٹ ، شفافیت اور قانون کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے منطقی انجام تک لیجایا جائے ، نیب افسران اور ماتحت عملے کو پوری دل جمعی سے کام کرنا ہو گا ،نیب کی پکڑ میں کوئی عام شخص آئے یا خاص، کاروائی قانون کے مطابق ہی ہو گی،نیب کرپشن کے خاتمے کا فریضہ قومی ذمہ داری اور اعزاز سمجھ کر کر ر ہا ہے ، بلوچستان کے کئی بند کیسزمیں قانونی شواہد موجود ہیں اس لئے انہیں میرٹ اور قانون کے مطابق دوبارہ کھولا جائے گا ، منصف کی کرسی کے تقدس کو سمجھتا ہوںاس لئے نہ میرٹ پر سمجھوتا کیا ہے اور نہ کرونگا نیب افسران کو میری طرف سے مکمل تحفظ حاصل ہے وہ کسی بھی دبائو کو خاطر میں نہ لا ئیں، سیاستدانوں سمیت ہر شخص کی عزت نفس کا احساس ہے، کاروائی قانون اور آئین کے مطابق ہی کی جاتی ہے، ، ہماری پہچان پاکستان سے ہے ، ذاتی تشہیر کا شوق نہیں حکمرانوں کے لئے نہیں ہمیشہ عوام کے لئے کام کیا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ بلوچستان کے موقع پر بریفنگ اور افسران سے خطاب نیب بلوچستان آفس میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ا س موقع پر ڈائر یکٹر جنرل نیب بلوچستان مرزا محمد عرفان بیگ بھی موجود تھے۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو ملک سے کرپشن کے خاتمے کا فر یضہ قومی ذمہ داری اور اعزاز سمجھ کر کر رہا ہے ،کرپٹ عناصرکو اپنی کرپشن کا حساب دینا ہو گا ، بلوچستان میں کیسز کے ذاتی مطالعے سے متعددبند کیسزمیں قانونی شواہد موجود پائے ، اس لئے انھیں میرٹ اور قانون کے مطابق دوبارہ کھولا جائے گا ، منصف کی کرسی کے تقدس کو سمجھتا ہوںاس لئے نہ میرٹ پر سمجھوتا کیا ہے اور نہ کرونگا نیب افسران کو میری طرف سے مکمل تحفظ حاصل ہے اس لئے کسی بھی دبائو کو خاطر میں نہ لایا جائے، سیاستدانوں سمیت ہر شخص کی عزت نفس کا احساس ہے ،کاروائی قانون اور آئین کے مطابق ہی کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا نیب افسران مقدمات کو قانون کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں، کرپٹ عناصر کے خلاف کیسز میں غیرضروری التواء برداشت نہیں کیا جائیگا ، بے لاگ اور بلا امتیاز کا روائیوں کا تسلسل آئندہ بھی اُسی قومی فریضے کی انجام دہی کے جذبے کے ساتھ جاری رہے گا، تمام مقدمات کو میرٹ ، شفافیت اور قانون کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے منطقی انجام تک لیجایا جائے ۔

انہوں نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مٹی کا ہم پر قرض ہے ہم نے اس قرض کو بطریق احسن لوٹانا ہے۔ اگر ہم نے ایمانداری ، دیانت سے کرپٹ عناصر کے خلاف مکمل جانفشانی کے ساتھ کام کیا تو میں سمجھتا ہوں ہم نے پنے حصے کا کام کر دیا ہے۔انھوں نے کہا دیانت ، ایمانداری کے زریں اصولوں کے مطابق کام کرنے سے اللہ کی مدد شامل حال ہو جاتی ہے بد عنوانی کے اندھیرے دور کرنے کے لئے اپنے حصے کا چراغ سب کو روشن کرنا ہو گا ۔

جسٹس جاوید اقبال نے ملک میں کرپشن کے عوام الناس کی زندگی پر اثرات اور مجموعی طور پر مضمرات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کرپشن کی وجہ سے پاکستان 90 ارب ڈالر کامقروض ہو چکا ہے ۔ہماری5 نسلوں کو اس قرض کے وبال کو بھتگنا ہے۔ ہر پاکستانی تقریبا 1 لاکھ 70ہزار کے مقروض ہے ۔ اس لئے کرپشن کی لعنت کو ہم سب نے ملکر ختم کرنا ہے اس کے لئے نیب کے تمام افسران اور عملے کا بھر پور تعاون ناگزیر ہے ۔

چیئرمین نیب نے کہا بد عنوانی کا مرتکب شخص ملک و قوم کا مجرم ہے اسی لئے ہر کرپٹ شخص کو اسکے برے فعل و عمل کا جوابدہ بنایا جا رہا ہے ، نیب کا کام کرپشن کے خلاف تحقیقات کو میرٹ ، شواہد، شفافیت اور قانون کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنا فرض منصبی سر انجام دینا ہے اس پکڑ میں کوئی عام شخص آئے یا خاص کاروائی قانون کے مطابق ہی ہو گی۔ انہوں نے نیب بلوچستان کی کار کردگی کو سراہتے ہوے کہا نیب بلوچستان کی کار کردگی اچھی ہے لیکن اس کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔ چیئرمین نیب نے لیگل ونگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت میں دائر کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے کوئی کسر اُٹھا نہ رکھیں۔