کراچی میں قومی سیاست کی ضرورت ہے۔

آج بھی مہاجر سیاست کرنے والے مہاجروں کے سب سے بڑے دشمن ہیں، مصطفی کمال کراچی کا مینڈیٹ رکھنے والوں کے پاس ایم پی ایز ایم این ایز تھے لیکن مسائل حل کرنے کے لئے ہمت نہیں تھی، ایم کیو ایم کو صوبہ نہیں بنانا کراچی کاآج پانی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔اس لئے کہہ رہا ہوں کے کراچی پہلے بھی ہم نے بنایا تھااور اب بھی ہم بنائیں گے سندھ کا وزیر اعلی ہمارا یا ہمارا حمایت یافتہ ہوگا، کراچی پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس سے خطاب

منگل جولائی 22:41

کراچی میں قومی سیاست کی ضرورت ہے۔
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جولائی2018ء) پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ کراچی میں قومی سیاست کی ضرورت ہے۔آج بھی مہاجر سیاست کرنے والے مہاجروں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔۔ایم کیو ایم کو صوبہ نہیں بنانا بلکہ انہوں نے مہاجروں کو صرف ٹرک کہ بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے۔ کراچی کا مینڈیٹ رکھنے والوں کے پاس ایم پی ایز ایم این ایز تھے لیکن مسائل حل کرنے کے لئے ہمت نہیں تھی۔

جاگ مہاجر جاگ کا نعرہ لگانے والے چند لوگ ارب پتی بن گئے اور مہاجر تباہ ہوگئے۔ کراچی کاآج پانی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔اس لئے کہہ رہا ہوں کے کراچی پہلے بھی ہم نے بنایا تھااور اب بھی ہم بنائیں گے۔ سندھ کا وزیر اعلی ہمارا یا ہمارا حمایت یافتہ ہوگا۔ان خیالات کا ظہار انہوں نے منگل کو کراچی پریس کلب میں پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر پریس کلب کے سیکر یٹری مقصود یوسفی نے استقبالیہ کلمات کہے اور کراچی پریس کلب کے صدر نے سید مصطفی کمال سے اظہار تشکر کیا۔۔سید مصطفی کمال نے کہا کہ کراچی والوں کے پاس پی ایس پی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔اس لئے کہہ رہا ہوں کے کراچی پہلے بھی ہم نے بنایا تھااور اب بھی ہم بنائیں گے۔میں کہتا تھا کے پانی سے بڑا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

کراچی کاآج پانی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ایم پی اے، ایم این ایز اور یو سی چئرمین تھے لیکن کام نہیں ہوا۔کچرا اٹھانے کے لئیسپریم کورٹ چیف جسٹس کو احکامات دینے پڑ رہے ہیں۔میرے زمانے کے چیف جسٹس نے سیاستدانوں کو کہا تھا کہ مصطفی کمال کا کام دیکھو۔انہوں نے کہا کہ پانی کے حوالے سے پالیسی پوچھنا ایسا ہے جیسے کھانے کا پوچھنا۔اسکے لئے پالیسی نہیں چائیے یہ ضرورت ہے۔

شہر گھر ہے اسکے لئے پالیسی نہیں بنتی۔ پالیسی حرام کمانے کے لئے بنتی ہے۔اربوں روپے خرچ ہورہے ہیں لیکن کچرا نہیں اٹھ رہا۔اب شکر ہے شہدا قبرستان میتیں نہیں جاتیں ہیں۔۔مصطفی کمال نے کہا کہ ہم نے نوجوانوں کو سمجھایا انکی وکالت کی ۔۔کراچی کے امن کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قربانی دی اسکے ساتھ پی ایس پی اور کارکنوں نے بھی قربانی دی۔

دو سال میں ہم نے کسی کو پلٹ کر پتھر نہیں مارا ہے۔جتنی زیادہ قومی سیاست کی ضرورت ہے اس شہر میں ہے اتنی کسی شہر میں نہیں ہے۔سال پہلے بھی جاگ مہاجر مہاجر کا نعرہ لگا لیکن مہاجروں کے گھروں میں پانی نہیں آتا ہے اورجاگ مہاجر جاگ کے نعرے بعد سے مہاجر لاپتہ ہیں ۔ اس نعرے سے پہلے مہاجروں میں تعلیم تھی ۔جاگ مہاجر جاگ کا نعرہ لگانے والے چند لوگ ارب پتی ہوگئے ہیں۔

ایم کیو ایم کا ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے خفیہ معاہدہ ہے اور اے این پی سے سیٹ ایڈجسمنٹ ہے۔ دیگر قومیتوں سے سیٹوں کی نہیں دل کہ ایڈجسمنٹ کریں۔مہاجروں ایم کیو ایم زنجیر سے باندھ کر تمہارا سائز توڑنا چاہتا ہے۔ وزیر اعلی یا تو ہمارا ہوگا یہ ہمارا ہمایت یافتہ ہوگا۔ میں کسی بی ٹیم نہیں ہوں۔۔ایم کیو ایم کو کوئی صوبہ نہیں بنانا،ٹرک کہ بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ کیا ایم کیو ایم نے صوبہ بنانے کے حوالے سے کبھی کسی جماعت سے اس حوالے سے کوئی میٹنگ کی آئین کے طریقہ کار سے ایم کیو ایم ایک قدم نہیں اٹھا سکتی ہے۔صوبہ بننا مسئلے کا حل نہیں اختیارات نیچے تک دینا سے مسائل حل ہوں گے۔مجھے مہاجر ہونے پر فخر ہے پر دوسری زبان بولنے والوں کو اپنے آپ سے دور نہیں کرسکتا ہوںاورکارکنان کو نفرت نہیں سکھا سکتا ہوں۔

مستقبل میں سیاسی اتحاد کسی سے بھی ہوسکتا ہے ۔سترہ نکات پر جوبھی حامی بھرے گا اس سے اتحاد ہوسکتے ہیں۔۔پیپلز پارٹی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔آج بھی مہاجر سیاست کرنے والے مہاجروں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔انہوں نے کہا کہ مہاجر لیاری والوں اور پنجاب والوں کا لیڈر کیوں نہیں بن سکتاا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اسکول ٹھیک نہیں کر سکی۔

کراچی پریس کلب کے صدر احمد ملک نے کہا کہ پریس کلب کا پروگرام میٹ دی پریس انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ قومی رہنما کلب آکر اپنا پارٹی پروگرام پیش کریں۔۔مصطفی کمال معروف شخصیت ہیں ۔سٹی ناظم کے دوران انہوں نے بہت سارے ترقیاتی کام کرائے اور شہریوں کو ریلیف دیا۔انہوں نے اس دور میں الگ پارٹی بنائی جب کراچی میں خوف کی فضاتھی۔ان کا پیغام امن اور بھائی چارے کا پروگرام ہے۔تاریخ کے پہلے الیکشن میں دیکھنا ہوگا کہ عوام ان کو کتنی پذیرائی دیتے ہیں۔