نواز شریف کے جہاز سے لائیو رپورٹنگ ہو گی

عالمی نشریاتی اداروں کے نمائندے بھی نواز شریف کے ہمراہ پاکستان آنا چاہتے ہیں،نواز شریف کے ہمراہ 132 افراد پاکستان آئیں گے، پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہد حسین سید کی گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ جولائی 11:31

نواز شریف کے جہاز سے لائیو رپورٹنگ ہو گی
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔11جولائی 2018ء) سابق وزیراعظم نواز شریف جس جہاز پر پاکستان واپس آ رہے ہیں اس سےلائیو رپورٹنگ ہو گی۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت سے سزا یافتہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا سنا دی گئی ہے۔۔نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے جمعے کے روز وطن واپسی کا اعلان کیا ہے۔۔نواز شریف جس جہاز پر واپس آ رہے ہیں۔

اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہو گی۔۔پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ عالمی نشریاتی اداروں کے نمائندے بھی نواز شریف کے ہمراہ پاکستان آنا چاہتے ہیں۔۔نواز شریف کے جہاز سے لائیو رپورٹنگ ہو گی،۔جب کہ نواز شریف کے ہمراہ 132 افراد پاکستان آئیں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق میاں نوازشریف اور مریم نواز کے ساتھ انٹرنیشنل میڈیا کے نمائندوں سمیت 132 افراد آرہے ہیں اور جس طیارے میں آرہے ہیں اس کی خاص خصوصیات یہ ھے کہ اس میں انٹر نیٹ کی سہولت سیٹلائٹ ذریعے موجود ہے اور نوازشریف کی طیارے کے اندر سے ہی پاکستان سمیت پوری دنیا میں لائیو کوریج ہوگی نوازشریف طیارے کے اندر ہی ہدایت دیتے رہیں گے۔

(جاری ہے)

۔واضح رہے کہ نواز شریف اور مریم نواز نے 13 جولائی کو وطن واپس آنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد اور سابق وزیرا عظم محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو وطن واپسی پر گرفتار کرنے کے لیے ابتدائی حکمت عملی بھی تیار کرلی ہے۔ نیب لاہور کی 2 ٹیمیں اسلام آباد ائیر پورٹ جبکہ 2 ٹیمیں لاہور ایئرپورٹ پر تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی ایک ٹیم میں 6 سے 7 نیب کے اہلکار ہوں گے جبکہ پولیس کی مدد الگ ہوگی، نیب ٹیم میں ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر عہدے کے افسران سمیت نیب آئی اینڈ ایس کے اہلکار بھی شامل کیے جائیں گے۔ لاہور ائیر پورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد نواز شریف اور مریم نواز کو بذریعہ ہیلی کاپٹر اسلام آباد منتقل کیا جائے گا۔۔۔وزارت داخلہ نے نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری اور اسلام آباد منتقلی کے لیے نیب کو ہیلی کاپٹر دینے کی منظوری دے دی ہے۔

دونوں مجرموں کو امگریشن حکام گرفتار کر کے نیب حکام کے حوالے کریں گے جس کے بعد لاہور ائیرپورٹ سے ہیلی کاپٹر پر اسلام آباد منتقل کیا جائے گا، ائیرپورٹ کی سکیورٹی کہ ذمہ داری نگران صوبائی حکومت کے پاس ہوگی، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچنے اور سکیورٹی کے پیش نظر بکتر بند گاڑی کا بھی انتظام کیا جائے گا۔