پاکستان میں شرح خواندگی بہت کم ہے،

ایس ڈی جیز کیلئے لوکل باڈیز اور سیاستدانوں کو کردار ادا کرنے کیلئے شامل کرنا چاہئے، ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے 89 ارب روپے کا ٹیکس حاصل ہوا نگران وزیر برائے خزانہ، منصوبہ بندی، ترقیات و اصلاحات ڈاکٹر شمشاد اختر کا ایس ڈی جیز کانفرنس سے خطاب

بدھ جولائی 16:26

پاکستان میں شرح خواندگی بہت کم ہے،
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جولائی2018ء) نگران وزیر برائے خزانہ، منصوبہ بندی، ترقیات و اصلاحات ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ پاکستان میں شرح خواندگی بہت کم ہے، ایس ڈی جیز کے لئے لوکل باڈیز اور سیاستدانوں کو کردار ادا کرنے کے لئے شامل کرنا چاہئے۔ یہ بات انہوں نے یہاں ایس ڈی جیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ پاکستان میں بجٹ خسارہ اور کرنٹ اکائونٹ خسارے ہدف سے زیادہ ہیں، ایسے حالات میں پائیدار ترقی کے اہداف کے لئے وسائل کی فراہمی آسان کام نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف ہمارے ثانوی نہیں بلکہ اولین ترجیحات میں شامل ہونے چاہئیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پلاننگ کمیشن کو ایس ڈی جیز کے تمام اعشاریوں کے حوالے سے ترجیحات مقرر کرنی چاہئیں۔ ایس ڈی جیز کی فنانسنگ کے لئے جامع روڈ میپ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے 89 ارب روپے کا ٹیکس حاصل ہوا ہے، اس سکیم سے پتہ چلا ہے کہ اتنی رقم تھی جو ہمیں نہیں مل رہی تھی۔

متعلقہ عنوان :