سرینگر میں لاپتہ افراد کے لواحقین کا پرامن احتجاجی دھرنا

لاپتہ افراد کو بازیاب کرکے ان کے لواحقین کے حوالے کیا جائے

بدھ جولائی 15:30

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جولائی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیم’’ ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس ایپئرڈ پرسنز‘‘ نے بھارتی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے مطالبے پر زور دینے کے لیے سرینگر کی پرتاپ پارک میں احتجاجی دھرنا دیا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق احتجاجی مظاہرین نے قابض حکام پر زوردیا کہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد لاپتہ کئے جانے والے ان کے پیاروں کے بارے میں انہیں معلومات فراہم کی جائیں۔

انہوںنے حکام پر زوردیا کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرکے لواحقین کے حوالے کیا جائے۔ اے پی ڈی پی کی چیئرپرسن پروینہ آہنگر نے اس موقع پر کہا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کی حالیہ رپورٹ کے بعد انہیں امید کی ایک کرن نظر آرہی ہے جس میںجبری گمشدگیوںسمیت کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیاگیا ہے۔

(جاری ہے)

ایک لاپتہ شخص محمد رمضان شیخ کی والدہ رحتی بیگم گزشتہ 26سال سے اپنے بیٹے کی واپسی کی منتظرتھی لیکن اپنے بیٹے کو دیکھے بغیر ہی 2016ء میں چل بسی۔

ایک اور 80سالہ خاتون ہاجرہ بیگم نے کہا کہ ان کے شوہر کا انتقال ہوچکا ہے اور ان کے چار بیٹوں کوجبری طورپر لاپتہ کردیا گیا ہے۔بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والی ہاجرہ بیگم نے کہا مجھے ان میں سے کسی کے بارے میں کوئی علم نہیں، میںان کو زندہ یامردہ دیکھنا چاہتی ہوں۔اے پی ڈی پی نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ کو سراہا جس میں مقبوضہ کشمیر میں جبری گمشدگیوں سمیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیا ہے اور ان کی آزادانہ تحقیقات پر زور دیا گیا ہے۔