پاکستان کا پہلا سکھ پولیس افسر گھر سے بے دخل

پاکستان کے پہلے سکھ پولیس افسر گلاب سنگھ نے متروکہ املاک بورڈ کے اہلکاروں پر گھر سے بے دخل کرنے کا الزام عائد کیا ہے، میڈیا رپورٹس

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ جولائی 15:56

لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔11جولائی 2018ء) پاکستان کے پہلے سکھ پولیس افسر کو گھر سے بے دخل کر دیا گیا۔ قومی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پہلے سکھ پولیس افسر گلاب سنگھ نے متروکہ املاک بورڈ کے اہلکاروں پر الزا م عائد کیا ہے کہ انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا ہے اور اس کے بعد ان کو گھر سے نکالا گیا ہے۔گلاب سنگھ نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ بورڈ کے اہلکاروں نے اس کے اہل خانہ کو گھر سےباہر نکال کر تمام سامان سمیت گھرکو سیل کر دیا ہے۔

گلاب سنگھ کا مزید کہنا ہے کہ مجھے اتنی بھی مہلت نہیں دی گئی کہ میں اپنے جوتے یا چپل پہن سکتا، گلاب سنگھ کا ایک ویڈیو پیغام بھی منظر عام پر آیا ہے جس میں گلاب سنگھ کہتا ہے کہ میں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ اپنے گھر کے باہر کھڑا ہوں جہاں سے مجھے میرے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا اور باہر نکال دیا گیا ۔

(جاری ہے)

گلاب سنگھ کا کہنا ہے کہ جس طرح مجھے گھر سے باہر نکالا گیا ہے اس سے میری بے عزتی ہوئی ہے اور اور اس طرز عمل سے میرے ساتھ ساتھ میرے اہل خانہ کی بے عزتی ہوئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر مجھ سے گھر ہی خالی کروانا تھا تو مجھے پہلے نوٹس جاری کیا جاتا۔کسی کو گھر سے نکلوانے کا یہ طریقہ نہیں ہوتا۔یہ گھر اور جگہ محکمہ اوقاف والوں کی ہے ہی نہیں۔تو پھر ان کا مجھے گھر سے نکلوانے کا کیا جواز بنتا ہے۔میری متعلقہ حکام سے التجا ہے کہ وہ اس کا سختی سے نوٹس لیں۔اور مجھے انصاف دلائیں۔گلا ب سنگھ کا مزید کہنا ہے کہ یہ تمام کاروائی میرے خلاف محکمہ اوقاف کے تاراسنگھ کی ایما ءپر ہو رہی ہےجس کا مقصد یہ ہے کہ وہ میرے ننگرہار میں واقع گھر کو منظر عام پر لائے۔گلاب سنگھ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان سکھ گرودوارا پاربھک کمیٹی کا صدر تارا سنگھ ذاتی دشمنی کے باعث صرف مجھے نشانہ بنا رہا ہے ۔

متعلقہ عنوان :