الیکشن کمیشن کا( ن) لیگ کی رجسٹریشن منسوخ کرنے اور پارٹی سے نواز کا نام ختم کرنے کی درخواستوں پر کاروائی انتخابات کے بعد کرنے کا اعلان

لاہور ہائی کورٹ: ایوان فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں کالعدم قرار دینے کے لیے درخواست دائر

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ جولائی 17:10

الیکشن کمیشن کا( ن) لیگ کی رجسٹریشن منسوخ کرنے اور پارٹی سے نواز کا نام ..
اسلام آباد/لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11جولائی۔2018ء) الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ( ن) کی رجسٹریشن کو منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت 15 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔۔الیکشن کمیشن میں( ن) لیگ کی رجسٹریشن منسوخ کرنے اور پارٹی سے نواز کا نام ختم کرنے کی 4 درخواستیں دائرہیں۔مسلم لیگ( ن) کے وکیل اظہر جدون الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے جبکہ درخواست گزار خرم نواز گنڈا پور اور وکیل نیاز انقلابی بھی الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔

الیکشن کمیشن کے ممبر برائے پنجاب الطاف ابراہیم کا کہنا ہے کہ اس موقع پرپارٹی کا نام ختم نہیں کر سکتے، اس سے نیا پنڈورا باکس کھل سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن میں 14 دن رہ گئے ہیں، کافی بیلیٹ پیپرز چھپ چکے ہیں، الیکشن ہونے تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کریں گے،آپ کا مو قف الیکشن کے بعد سنیں گے۔

(جاری ہے)

وکیل نیازانقلابی نے کہا کہ یہ انٹرنیشنل کریمنل ہے، اس کے نام سے پارٹی نہیں چل سکتی۔

مسلم لیگ( ن) کی جانب سے اس سلسلے میں الیکشن کمیشن میں جواب جمع نہ کرایا جاسکا۔ممبر پنجاب نے درخواست گزاروں سے استفسار کیا کہ آپ چاہتے کیا ہیں؟جس پر درخواست گزار نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن )میں سے نون ہٹایا جائے۔۔الیکشن کمیشن نے درخواستوں پر سماعت 15 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ میں ایوان فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ میاں نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا کو کالعدم قرار دینے کے لیے درخواست دائر کردی گئی ، جس میں کہا گیا کہ احتساب عدالت نے ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کو اس قانون کے تحت سزا دی جو ختم ہو چکا ہے لہذا ہائی کورٹ سزا کو کالعدم قرار دے۔

تفصیلات کے مطابق یوان فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ میاں نواز شریف ، مریم صفدر اور کیپٹن صفدر کی سزا کو کالعدم قرار دینے کے لیے درخواست دائر کردی گئی، درخواست لائیرز فاو¿نڈیشن کی طرف سے قانون دان اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے دائر کی۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 1999 میں نیب آرڈینینس جاری کیا تاہم بعد میں پارلیمنٹ نے اسے آئینی تحفظ نہیں دیا اس لیے نیب کا قانون آٹھارویں ترمیم کے بعد ختم ہو چکا ہے۔درخواست گزار کے مطابق احتساب عدالت نے ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو اس قانون کے تحت سزا دی جو ختم ہو چکا ہے لہذا ہائی کورٹ سزا کو کالعدم قرار دے۔