نگران وزیراعلیٰ ڈاکٹر حسن عسکری کا وزیراعلیٰ شکایت سیل کا دورہ،

سائلین سے ملاقات ، مسائل کے حل کیلئے موقع پر احکامات وزیراعلیٰ شکایت سیل ازسرنو فعال کیا گیا ہے،عوام اپنے مسائل کے حل کیلئے آن لائن بھی درخواست دے سکتے ہیں، عوام کو ریلیف کی فراہمی حکومت کا بنیادی فرض،شکایت سیل میں آنیوالی درخواست پر رپورٹ کے بعد جلد کارروائی عمل میں لائی جائیگی وزیراعلیٰ شکایت سیل میں درج کرائی جانے والی شکایات پر فوری ایکشن ہوگا‘ڈاکٹر حسن عسکری ہم آنیوالی حکومت کے لئے ایک مثال قائم کرنا چاہتے ہیں،منتخب حکومت جب آئے گی تو ہم ان کیلئے کچھ تجاویز چھوڑ کر جائیںگے نگران سیٹ اپ مکمل طورپر غیر جانبدار ہے ،اگرکسی کو پنجاب حکومت سے شکایت ہے تو اسے دور کرنے کیلئے پوری کوشش کریںگے ‘گفتگو

بدھ جولائی 17:49

نگران وزیراعلیٰ ڈاکٹر حسن عسکری کا وزیراعلیٰ شکایت سیل کا دورہ،
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جولائی2018ء) نگران وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری نے 5 کلب روڈ پر وزیراعلیٰ شکایت سیل کا دورہ کیا اور شکایت سیل کے مختلف شعبوں کامعائنہ کیااورشکایات کے اندراج سے ازالے تک کے طریقہ کار کامشاہدہ کیا۔ نگران وزیراعلیٰ نے اس موقع پر شکایات کے ازالہ کیلئے آنے والے سائلین سے ملاقات بھی کی اوران سے مسائل سنے۔

ڈاکٹر حسن عسکری نے سائلین کی شکایات اورمسائل کے ازالے کیلئے موقع پر ہی احکامات جاری کئے۔ نگران وزیراعلیٰ ڈاکٹر حسن عسکری نے اس موقع پر سائلین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے مسائل کے حل کیلئے وزیراعلیٰ شکایت سیل کوازسرنو فعال کیا گیا ہے۔عوام اپنے مسائل کے حل کیلئے آن لائن بھی درخواست دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

(جاری ہے)

نگران وزیراعلیٰ نے شکایت سیل میں کام کرنے والے عملے سے بھی ملاقات کی۔صوبائی وزراء ضیاء حیدر رضوی، احمد وقاص ریاض اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی حکومت کا بنیادی فرض ہے،شکایت سیل میں آنیوالی ہر درخواست پر محکمانہ رپورٹ کے بعد جلد ازجلد کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

محکمہ ریونیو ،پولیس اوردیگر محکموں سے متعلق عوامی شکایات کے ازالے کیلئے شکایات سیل میں متعلقہ محکموں کے نمائندے موجود ہوںگے۔ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا کہ عوام شکایات کیلئے آن لائن،بذریعہ ڈاک،ای میل یا براہ راست درخواست دے سکتے ہیں،عوام کی طرف سے آنیوالی درخواست پر محکمانہ کارروائی یقینی بنائی جائے گی،شکایت سیل کو عوام کی ضرورت کے پیش نظر ازسرنو فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اورہم اپنی محدود مدت میں شکایت سیل کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر بھر پور توجہ دیں گے۔

انہوںنے کہا کہ ہماری حکومت جس حد تک ممکن ہے عوام کو ریلیف دینے کی پوری کوشش کررہی ہے اور اس شکایت سیل کو دوبارہ فعال بنانا بھی اسی مقصد کے پیش نظر کیاگیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ عوام کو ریلیف دینا ہر حکومت کی ذمہ داری ہے ۔شکایت سیل کے فعال ہونے سے لوگوں کے مسائل بہتر انداز سے حل ہوںگے اورمعاملات درست ہوسکیںگے۔انہوںنے کہاکہ اس سیل میں درج کرائی جانے والی شکایات پر فوری ایکشن ہوگا ،تاہم یہ ایکشن شکایت کے حوالے سے آنے والی رپورٹ کی روشنی میں لیا جائے گا۔

انہوںنے کہا کہ زیادہ تر شکایات کا تعلق پولیس سے ہوتا ہے یا مالی امداد کی درخواستیں آتی ہیں ۔ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کے یہ مسائل تسلی بخش انداز میں حل ہوںاوراسی لئے شکایت سیل فعال کیا گیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ شکایات کے ازالے کیلئے تیزی سے کارروائی ہوگی تاکہ سائلین کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ شکایت کو کم سے کم وقت میں نمٹایا جائے اورغیر ضروری تاخیر نہ ہو۔

ہم آنے والی حکومت کے لئے ایک مثال قائم کرنا چاہتے ہیں ۔منتخب حکومت جب آئے گی تو ہم ان کیلئے کچھ تجاویز چھوڑ کر جائیںگے جس سے عوام کے روزمرہ معاملات میں بہتری لائی جاسکے اورانہیں ریلیف مہیا کیا جاسکے۔انہوںنے کہا کہ عوام کے مسائل حل کرنا اور عوام کی بہتری کیلئے کام کرنا حکومت کا کام ہے ۔انہوںنے کہا کہ موجودہ نگران سیٹ اپ مکمل طورپر غیر جانبدار ہے اوراگرکسی کو پنجاب حکومت سے کوئی شکایت ہے تو وہ ہمیں بتائیں ہم اس شکایت کو دور کرنے کیلئے پوری کوشش کریںگے تاہم بہت سے معاملات کا تعلق وفاقی حکومت اورالیکشن کمیشن سے ہے۔

جو شکایت پنجاب حکومت کے بارے میں ہوگی اس کافوری نوٹس لیا جائے گااورہم اس کے ازالے کیلئے کام کریںگے۔بلاول بھٹو کے قافلے کو روکے جانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ اوچ شریف میں پیش آنے و الا معاملہ حل ہوچکا ہے اورمیرا خیال ہے کہ یہ سب کچھ قافلے کا روٹ بدلنے سے ہوااوراس سے ایشو پیدا ہوا،جسے بروقت حل کیا گیا۔ایک اورسوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ سرکردہ رہنماؤں اورامیدواروں کی سیکورٹی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اوراس ضمن میں متعلقہ اداروں اورمحکموں کو ہدایات جاری کیں جاچکی ہیں ۔