سینٹ اجلاس،ہارون بلور پر حملے کی مذمت،تعزیتی قرارداد متفقہ طور پر منظور،

سینیٹرز کی جذباتی تقاریر وزیر اعظم آج پشاور میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے، ہارون بلور کو کچھ کارکنوں کی جانب سے چائے پر مدعو کیا تھا،سیاسی رہنماء کسی بھی سرگرمی سے قبل انتظامیہ کو آگاہ کریں،نگران وزیر داخلہ لگتاہے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہوا،ظفر الحق، سیاستدانوں سے سکیورٹی واپس لے کر ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالا گیا،شیری رحمن

بدھ جولائی 21:28

سینٹ اجلاس،ہارون بلور پر حملے کی مذمت،تعزیتی قرارداد متفقہ طور پر ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جولائی2018ء) سینٹ نے منگل کی رات کو پشاور کے علاقے یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی ((اے این پی)) کے امیدوار صوبائی اسمبلی ہارون بلور کی کارنر میٹنگ میں خود کش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور واقعہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بیرسٹر ہارون بلور کی بیس سے زائد لوگوں کے ہمراہ جاں بحق ہونے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

بدھ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین محمد صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا،اجلاس کے آغاز پر پاکستان مسلم لیگ ن کی سنیٹر سعدیہ عباسی نے معمول کی کارروئی معطل کرتے ہوئے مرحوم ہارون بلور کیلے دعا کرانے اور اس اہم واقعہ پر بحث کرانے کی استدعا کی جس پر چیئرمین نے معمول کی کارروائی معطل کرتے ہوئے پشاور واقعہ پر ارکان سینیٹ کو اظہار خیال کرنے کا موقع دیا۔

(جاری ہے)

سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر راجہ محمد ظفرالحق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ نہیں بلکہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے،بلور خاندان کی ملک اور جمہوریت کیلئے بے شمار قربانیاں ہیں،جب اداروں کی رپورٹ میں اے این پی کے رہنماؤں کو تھریٹس تھیں تو حکومت کو انہیں بغیر درخواست دیئے سکیورٹی فراہم کرنی چاہیے تھی،پنڈی میں لوگوں کو اٹھانا الیکشن پاسس کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔

قائد حزب اخلاف سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ ہارون بلور کی شہادت صرف اے این پی کا نہیں پورے ملک کا نقصان ہے،آج ملک حق اور سچ کہنے والے شخص سے محروم ہوا،بھٹو خاندان کے بعد سب سے زیادہ شہادتیں بور خاندان نے دیں ہیں،جتنے جنازے بھٹو اور پی ی پی نے دیکھے نہیں چاہتے کہ دوسری جماعتیں بھی دیکھیں، سیاستدانوں سے سکیورٹی واپس لے کر ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالا گیا،سکیورٹی ہے تو لیول پلیئنگ فیلڈ ہے اگ سکیورٹی ہی نہ ہو تو لیول پلیئنگ فیلڈ کس بات کی تحریک طالبان پاکستان آج جرات کے ساتھ واقعہ کی ذمہ داری قبول کر رہی ہے،تمام امیدواروں کو سکیورٹی فراہم کرنا حکومت اور الیمشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہو گا۔

سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ یہ واقعہ افسوناک اور بڑے پلان کا ایجنڈا ہے،،مودی اور ٹرمپ کے بیانات کے بعد خطے میں داعش اور القاعدہ کی سرگرمیاں بڑھ گیئں ہیں،نیکٹا کے حکام نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے اے این پی کے رہنماؤں کو لاحق تھریٹس کے بارے میں آگاہ کیا تھا،اس کے باوجود حفاظتی اقدامات نہ کرنا سمجھ سے بالا تر ہی? پاکستان مسلم لیگ کے سینیٹر پرویز رشید نے کہاکہ پشاور حملہ انفرادی نہں یہ ایسے حملوں کا تسلسل ہے جن سے بلور خاندان اور پاکستان کی دیگر خاندان،،پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے جوان اور پاکستان کے سکولوں کے معصوم بچوں کو سامنا رہا،اس طرح کے واقعات شخصیات کی وجہ سے نہیں بلکہ ان پالیسیوں سے جڑا ہے جسے ریاست نے خود اپنایا،،پاکستان کو کسی کی کرپشن نے انتی نقصان نہیں پہنائی جتنی دہشتگردی پھہلانے والے نظریے نہ پہنچائی ہے،ہمیں دہشتگردی سے تعلق رکھنے والوں سے تعلق توڑنا ہو گا،ان کو قومی دھارے میں لانے کی بات کی گئی،قومی دھارے میں لانے کے فلسفہ کا خمیازہ فیض آباد،آج پشاور اور ایک دینی مدرسے میں بھی ایک سیاسی جماعت کے سربراہ پر جوتا مارنے کی شکل میں ب بھی ھگتنا پڑا،3لاکھ فوج کروڑوں ووٹرز کی نگہداشت کر سکتی ہے تو کیا مٹھی بھر دہشتگردوں کو قابو نہیں کر سکتی ?پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ آج پشاور سمیت پورے صوبے کی فضائ افسردہ ہے،ہارون بلور استقامت والی شخصیت تھے،اس طرح کے واقعات سے غیر یقینی ماحوال کا خدشہ ذہن میں آتاہے، اے این ہی کا موقف رہا یے کہ 2013ئ میں انہیں لیول پلینگ فیلڈ نہیں ملی،آج کے واقعے سے ان کی موقف کو تائید ملے گی،تمام امیدواروں کی جان و مال کا تحفظ حکومت اور الیکن کمیشن کی ذمہ داری ہے،کچھ جماعتوں کو موقع ملے اور کچھ کو نہ ملے ایسا نہں ہوا چاہئی? سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ بلور خاندان کی پاکستان کی پاکستان کیلئے بے شمار قربانیاں ہیں،ہارون بلور عظیم پاکستانی سپوت تھے،اس واقعہ کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیئے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سنیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ ہارون بلور کی موت عظیم نقصان ہے،،اے این پی کا ملکی سیاست مں اہم کردار ہے،2013کے انتخابات میں ان کو گھروں تک محدود کیا گیا،اس جماعت نے ہمیشہ ترقی پسندانہ سوچ کو آگے بڑھایا۔سینیٹر سکندر میندھرو نے کہا کہ دیشتگرد ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہونے دے رہا،ایسے خاندانوں کے اس طرح کے واقعات افسوس ناک ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ گزریہوئے لوگوں کیلئے تعریفوں کے پل باندھنا ہی کافی نہیں بلکہ انسداد دہشتگردی کیلئے مؤثر پالیسی مرتب کرکے اس پر عمل درآمد کرانا بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ سینیٹر چوہدری تنویر نے کہا کہ بلور خاندان کی قربانی پر قوم غمزدہ اور تحفظات کا شکار ہے،اس طرح کے واقعات غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے،سیاستدانوں کی سکیورٹی واپس لے لی گیئں ہیں،صرف دو سیاسی یتیمون((عمران خان اور شیخ رشید) کو سکیورٹی دی جارہی ہیں، عمران خان کے ساتھ ساتھ چار چار ایلیٹ فورس کی گاڑیاں چلتی ہیں،سیاسی کارکنوں کی چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے،ہم نے کارکنوں کو پکڑنے کی وجہ تو کہا گیا کہ اوپر سے حکم ہے،لال حویلی میں لسٹیں تیار کی جارہی ہیں کہ کس جماعت کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت دینی ہے اور کس کو نہیں،اگر صورت حال یہی رہی تو گلی گلی،محلے محلے میں صورت حال خراب ہوں گے۔

سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ بلور خاندان کی جمہورت کیلے بے شمار قربانیاں ہیں،پسند و نا پسند حکومت کے فیصلہ حق کسی ادارے کا نہیں صرف عوام کا حق ہے،ملک ملک میں واقعات سے سیکھنے کی بجائے اور حالات خراب ہو جاتے ہیں، لوگوں کی جان و مال کا تحفظ کرنی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ کہیں جوتا،کہیں سیاہی اور کہیں خون ہم کس کس کو روئیں،جن امیدواروں کو خطرہ ہیں ان کو سکیورٹی فراہم کرنا الیکشن کمیشن اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔

سینیٹر رانا مقبول نے کہا کہ نیکٹا نے اے ایاین پی رہنماؤں کو دھمکی سے متعلق اجلاس میں آگاہ کیا تھا،اس کے باوجود حفاظتی حفاظتی انتظامات نہیں کی گئی۔ سینیٹر اعظم موسی خیل نے کہا کہ اس وقت دو ایجنڈے ملک میں موجود ہیں،ایک عوامی نمائندوں کو الیکشن میں ہرانا اور دوسر ان کو دارالبقائ سے دارالفنائ پہنچانا،اس ایجنڈے کا مالک کون ہے یہ اب تک معلوم نہیں۔

نگران وفاقی وزیر داخلہ اعظم خان نے ایوان کو بتایا کہ تحرک طالبان پاکستان نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے،وزیر اعظم آج پشاور کا دورہ کریں گے،جہاں وہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ جس میں کور کمانڈر پشاور،،آئی جی ایف سی،،آئی جی پولیس اور تمام سکیورٹی اداروں کے سربراہان شریک ہوں گے۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ہارون بلور رات کو کچھ کارکنوں کی جانب سے چائے پر مدعو کیا تھا،سیاسی رہنمائ کسی بھی سرگرمی سے قبل انتظامیہ کو آگاہ کریں۔

اجلاس میں ہارون بلور کی شہادت پر پیش کردہ مزمتی قراردار متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔۔قرارداد قائد ایوان راجہ محمد ظفرالحق نے پیش کی،،قرارداد میں مرحوم کی سیاسی و سماجی خدمات اور بلور خاندان کی سیاسی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا گی۔