زرعی بینک سمیت کسی بھی بینک کا نادہندہ نہیں ہوں،حلیم عادل شیخ

بدھ جولائی 22:06

زرعی بینک سمیت کسی بھی بینک کا نادہندہ نہیں ہوں،حلیم عادل شیخ
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جولائی2018ء) پاکستان تحریک انصاف پی ایس 99کے امیدوارحلیم عادل شیخ نے کہاہے کہ سیاسی مخالفین میری انتخابی مہم پر اثر انداز ہونے کے لیے نت نئے حربے آزما رہے ہیں ، زرعی بینک کے وکیل نے جو مجھ پر 80لاکھ قرضے کا جو الزام لگایا ہے وہ سراسر جھوٹ کا پلندہ ہے ،اپنے موقف میں ان کا کہنا تھا کہ اپنے اوپر زرعی بینک کی جانب سے لگائے الزامات کا جواب قانون کے مطابق عدالت میں دونگا۔

(جاری ہے)

میں زرعی بینک سمیت کسی بھی بینک کا نادہندہ نہیں ہو، میں کسی بھی قسم کا کوئی قرضہ معاف نہیں کروایا ہے اور نہ ہی کسی بینک کا نادہندہ ہوں، میرے پاس اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ ای اسی آئی بی رپورٹ اور زرعی بینک کا کلیئرنس سرٹیفیکٹ بھی موجود ہے ،میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ جو قرض معاف کروایا جاتاہے اس کا زکر کرنا الیکشن کمیشن کے فارم میں ضروری ہوتاہے مگر جب کوئی قرضہ معاف ہی نہیں کروایا تو اس کا زکر کیوں کرونگا، انہو ںنے کہاکہ زرعی بینک سے 43لاکھ کا قرضہ لیا گیا تھا جس پر اسٹیٹ بینک کے سرکیولرنمبر29کے زریعے سیٹلمنٹ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں زرعی بینک کا تمام قرضہ واپس بھی کردیا گیا تھاجس کا کلیئرنس سرٹیفیکیٹ بھی موجود ہے ،انہوں نے کہا کہ زرعی ترقیاتی بینک نے 15-11-2017کو مجھے کلیئنرنس سرٹیفیکٹ جاری کیا تھااور اس کے علاوہ 14-6-2018میں بھی ان کی جانب سے ایک کلئیرنس سرٹیفیکٹ جاری ہواہے ۔