نواز شریف نے ڈان لیکس کی ذمہ داری قبول کرلی

ڈان لیکس میٹنگ کے دوران جو کچھ کہا گیا وہ میں نے ہی کہا تھا، لیکن میرے مشورے ماننے کی بجائے ڈان لیکس کا تنازعہ کھڑا کر دیا گیا، اب جیل جانا پڑے یا پھانسی پر چڑھایا جائے، لیکن اب ان کے قدم نہیں رکیں گے اس مشکل وقت پر اپنی قوم کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا، جیل کی کوٹھری اپنے سامنے دیکھ کر بھی پاکستان واپس جارہا ہوں، ووٹ کو عزت دو کا وعدہ پورا کرنے جارہا ہوں: سابق وزیراعظم کا لندن میں ورکرز کنونشن سے خطاب

muhammad ali محمد علی بدھ جولائی 20:03

نواز شریف نے ڈان لیکس کی ذمہ داری قبول کرلی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جولائی2018ء) نواز شریف نے ڈان لیکس کی ذمہ داری قبول کرلی، ڈان لیکس میٹنگ کے دوران  جو کچھ کہا گیا وہ میں نے ہی کہا تھا، لیکن میرے مشورے ماننے کی بجائے ڈان لیکس کا تنازعہ کھڑا کر دیا گیا، اب جیل جانا پڑے یا پھانسی پر چڑھایا جائے، لیکن اب ان کے قدم نہیں رکیں گے، اس مشکل وقت پر اپنی قوم کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا، جیل کی کوٹھری اپنے سامنے دیکھ کر بھی پاکستان واپس جارہا ہوں، ووٹ کو عزت دو کا وعدہ پورا کرنے جارہا ہوں، نواز شریف کا لندن میں ورکرز کنونشن سے خطاب۔

تفصیلات کے مطابق لندن میں مسلم لیگ ن کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اب جیل جانا پڑے یا پھانسی پر چڑھایا جائے، لیکن اب ان کے قدم نہیں رکیں گے۔

(جاری ہے)

س مشکل وقت پر اپنی قوم کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا، جیل کی کوٹھری اپنے سامنے دیکھ کر بھی پاکستان واپس جارہا ہوں۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ ووٹ کو عزت دو کا وعدہ پورا کرنے کیلئے پاکستان واپس جارہا ہوں۔

نواز شریف کا مزید کہنا ہے کہ احتساب عدالت نے خود اپنے فیصلے میں اعتراف کیا ہے کہ کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ نواز شریف کا مزید کہنا ہے کہ اب اس وقت میں خاموش رہنا ملک سے غداری ہوگی۔ لاڈلے کیلئے انصاف کا ترازو کچھ اور جبکہ ہمارے لیے ترازو کچھ اور ہے۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ کون ہے جو 11 سال جیل کی سزا ملنے کے بعد بھی جیل جانے کیلئے ملک واپس جائے۔

کون ہے جو مجھے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے۔ کب تک یہ دہرا معیار روا رکھا جائے گا۔ نواز شریف نے مزید کہا ہے کہ ان کی بیٹی کو کس بات کی سزا سی جا رہی ہے۔ ان کی بیٹی مریم نواز کسی عوامی یا سرکاری عہدے پر براجمان نہیں رہی، لیکن پھر بھی اسے 8 سال جیل کی سزا دے دی گئی۔ نواز شریف کہتے ہیں کہ ہے کوئی دوسرا پاکستانی جس نے تین نسلوں کا حساب دیا ہو۔ نواز شریف کو چاہے جیل میں ڈالو یا پھانسی پر لٹکاو، لیکن ان سوالات کا جواب ضرور دیا جائے۔ اب پاکستان کی عوام خود ان سوالات کا جواب لے گی۔