نثار کھوڑو نا اہلی کیس ،ْ سپریم کورٹ نے پی پی رہنما اور ان کی دو بیویوں سے تیسری شادی کا اجازت نامہ طلب کرلیا

مجھے نہیں لگتا کوئی شخص اپنی بیٹی کی ولدیت عدالت میں قبول نہ کرے ،ْ چیف جسٹس ثاقب نثارکے ریمارکس

بدھ جولائی 22:18

نثار کھوڑو نا اہلی کیس ،ْ سپریم کورٹ نے پی پی رہنما اور ان کی دو بیویوں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جولائی2018ء) سپریم کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنمانثار کھوڑو کے نا اہلی کیس کی سماعت میں پی پی رہنما اور ان کی دو بیویوں سے تیسری شادی کا اجازت نامہ طلب کرلیا ۔۔سپریم کورٹ میں نثار کھوڑو کے نااہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 2رکنی بنچ نے کی ۔۔عدالت نے پی پی رہنما اور ان کی 2بیویوں سے تیسری شادی کا اجازت نامہ طلب کرلیا۔

پی پی رہنما کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرے موکل نے 2007ء میں تیسری شادی زبانی کلامی کی اور پھر 2017ء میں تیسری بیوی کو زبانی کلامی طلاق دیدی ۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون میں زبانی کلامی طلاق کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی،انہوں نے نثار کھوڑو سے سوال کیا کہ تیسری شادی کرتے وقت پہلی بیوی سے اجازت لی تھی پہلی بیوی سے اجازت نہ لینے اور تیسری شادی رجسٹرڈ نہ کرانے پر مقدمہ ہوسکتا ہے ۔

(جاری ہے)

فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ نثار کھوڑو پر الزام عدالت میں اپنی بیٹی کی ولدیت تسلیم نہ کرنے کا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کوئی شخص اپنی بیٹی کی ولدیت عدالت میں قبول نہ کرے ۔۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نثار کھوڑو کمرہ عدالت میں موجود ہیں ان کے وکیل نے کہا کہ وہ عدالت میں موجود نہیں مگر ان کی تیسری بیوی کا بیان حلفی جمع کرایا ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بڑی اچھی بیوی ہے جس نے طلاق کے بعد بھی بیان حلفی جمع کروایا ہے ۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک کیس میں یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ زبانی شادی کی کوئی حیثیت نہیں ،ْاس معاملے پر تمام قوانین اور عدالتی نظیریں منگوا کر جائزہ لے لیتے ہیں۔فاروق ایچ نائیک نے استدعا کی کہ عدالت کے پوچھے گئے سوالات کے لیے کچھ وقت دیا جائے،، نثار کھوڑو سے بات نہیں ہو سکی وہ انتخابات میں مصروف ہیں۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ بہت اہم ہے الیکشن ہو رہے ہیں آپ کیلئے پھر کوئی مسئلہ نہ ہو، عدالت نے نثار کھوڑو سے ان کی 2بیویوں سے تیسری شادی کیلئے دیا گیا اجازت نامہ طلب کر تے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ۔