بہتر رابطوں اور تعاون کے ذریعے دکھی خواتین کے لئے دارالامان کی سہولیات بہتر بنائی جاسکتی ہیں

نگرا ن صو با ئی وزیر اطلا عا ت اورنگران صو با ئی مشیر بریگیڈیئر حارث نواز کے پناہ شیلٹرہوم،دارالاطفال اور سماجی بہبود کے دفاتر کا دورہ

بدھ جولائی 23:40

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جولائی2018ء) نگران وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے سماجی بہبود،اسپیشل ایجوکیشن،ورکس اینڈ سروسز و جیل خانہ جات بریگیڈیر(ریٹائرڈ) حارث نواز نے نگرا ن صو با ئی وزیر اطلا عا ت کے ہمرا ہ شیلٹر ہو م پنا ہ کا دورہ کیا۔اس موقع پر نگران صوبائی وزیر جمیل یوسف نے کہا کہ صوبے کے تمام شیلٹرہوم کے مابین بہتر رابطوں اور تعاون کے ذریعے دکھی خواتین کے لئے دارالامان کی سہولیات بہتر بنائی جاسکتی ہیں۔

جاری اعلامیہ کے مطابق نگرا ن صو با ئی مشیر برائے سماجی بہبود،اسپیشل ایجوکیشن،ورکس اینڈ سروسز و جیل خانہ جات نے کہا کہ حکومت خواتین کی بہبود کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لارہی ہے باالخصوص بے سہارا اور دکھی خواتین کی مدد حکومتی ترجیحات میں اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ادارے اور این جی اوز جو بے سہارا،پریشان حال اور دکھی خواتین کی خدمت کر رہے ہیں حکومت ان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔

اس موقع پر پناہ شیلٹر ہوم کے ٹرسٹی اور نگران صوبائی وزیر اطلاعات جمیل یوسف،سیکریٹری سوشل ویلفیئر طحہ فاروقی، ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر سندھ شیما عارف،ڈائریکٹر اطلاعات زینت جہاں،ایڈیشنل سیکریٹری سماجی بہبود عیسی میمن اور پناہ شیلٹر ہوم کی انتظامی خواتین افسران کی بڑی تعداد موجود تھی۔بریگیڈیئر(ر) حارث نواز نے پناہ کی رہائشی سہولیات کو سراہا اور کہا کہ یہاں پناہ کی متلاشی خواتین کو بہت اچھا ماحول ،خدمات اور سہولیات فراہم کی جارہی ہیں دوسرے فلاحی ادارے ان خدمات کو دیکھ کر سیکھ سکتے اوراپنے معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

اس موقع پر پناہ کی ٹرسٹی مسز شہناز جمیل اور انتظامی مینیجر زر گل نے نگران مشیر کو پناہ کے قواعد و ضوابط سے آگاہ کیا اور بتایا کہ پناہ میں سندھ ،،بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں سے پریشان حال خواتین آتی ہیں۔۔عدالت اور انتظامیہ کی جانب سے بھی دکھی خواتین کو یہاں بھیجا جاتا ہے۔پناہ میں آنے والی خواتین کو پر سکون رہائش کے ساتھ ساتھ کھانا،،علاج،،،تعلیم،،ہنر کی تربیت اور قانونی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے پناہ کے عمدہ انتظامات کی تعریف کی اور کہا کہ سرکاری شیلٹرہومز اور دارالامان کو بھی پناہ کے معیار کے مطابق بنانے کے لئے پناہ کی انتظامیہ کے تعاون سے اقدامات کئے جائیں گے۔اس موقع پر نگران وزیر اطلاعات اور پناہ کے ٹرسٹی جمیل یوسف نے کہا کہ ہما ری کو شش ہے کہ پناہ میں آنے والی خواتین کی اسطرح مدد اور تربیت کی جائے کہ وہ اپنے گھر اور معاشرے کی مفید اور بااختیار فرد بن سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پناہ میں آنے والی خواتین کے مقدمات کی جلد اور بروقت تکمیل کے ذریعے عدلیہ دکھی خواتین کو بھر پور تحفظ فراہم کررہی ہے جس کے لئے ہم عدلیہ کے شکر گذار ہیں۔پناہ کے دورے کے بعد نگران وزیر اطلاعات اور نگران مشیر سماجی بہبود نے شانتی نگر گلشن اقبال میں محکمہ سماجی بہبود کے دارالاطفال کا دورہ کیا اور بچوں سے ان کے مسائل معلوم کئے اور انتظامی معاملات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور انچارج افسر کو دارالاطفال میں بچوں کے لئے بہتر سہولیات اور کمروں میں مناسب روشنی کے انتظام کی ہدایات دیں۔

انہوں نے دارالاطفال کے مختلف کمروں،کھیلنے کے حصے،واش رومز،کچن اور برآمدوں کا معائنہ کیا اور صورتحال کو بہتر بنانے کی ہدایات دیں۔انہوں نے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے بسکٹس،چپس اور کولڈ ڈرنکس پیش کیں۔بعد ازاں نگران مشیر سماجی بہبود نے محکمہ سماجی بہبود کے ٹریننگ سینٹر گلشن اقبال کا دورہ کیا جہاں انہیں بتایا گیا کہ اس ٹریننگ سینٹر میں سماجی بہبود کے افسران،یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات اور سماجی تنظیموں کے اراکین کو سماجی امور کی تربیت دی جاتی ہے۔

نگران مشیر نے متعلقہ افسران سے گذشتہ سال کی کارکردگی کی رپورٹ طلب کی اور سال رواں کے تربیتی پروگراموں کا شیڈول معلوم کیااور ہدایات دیں کہ ہر سال کے تربیتی پروگرام کے شیڈول کا کیلنڈر اور سلیبس سال کے آغاز سے قبل ہی تیار کئے جائیں اورہر پروگرام کی تکمیل کی رپورٹ پیش کی جائے۔اس کے بعد ایڈیشنل ڈائریکٹر این جی اوز کے دفتر کے دورے میں نگران مشیر نے تمام فعال این جی اوز سے آڈٹ رپورٹ طلب کرنے کی ہدایات دیں۔انہوں نے افسران کو متنبہ کیا کہ فرائض کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

Your Thoughts and Comments