نگران وزیراعلیٰ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ و انتظامیہ کاہنگامی اجلاس،قوم کو پشاور دھماکہ کے ذمہ دار حکام،کوتاہی کے مرتکب اہلکاروں اور سانحہ کی تحقیقات سے آگاہ کیا جائے گا، ملوث عناصر کو مثالی سزا دی جائے گی،نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر)دوست محمد خان

جمعرات جولائی 00:00

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جولائی2018ء) خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر)دوست محمد خان کی زیر صدارت صوبائی انتظامیہ کا ہنگامی اجلاس وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا ۔نگران وزیر اعلیٰ نے خود کش دھماکے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور دھماکے میں ملوث عناصر ،غفلت اور کوتاہی کے مرتکب حکام کا تعین کرنے کی ہدایت کی، انہوں نے کہا کہ قوم کو ذمہ دار حکام اور کوتاہی کے مرتکب اہلکاروں اور سانحہ کی تحقیقات سے آگاہ کیا جائے گا اور ملوث عناصر کو مثالی سزا دی جائے گی،اجلاس میں خودکش دھماکے میں شہید ہونے والے ہارون بلور اور دیگر شہداء کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی اور درجات کی بلندی کیلئے دعا کی گئی۔

اجلاس میں شہداء اور زخمی ہونے والوں کیلئے معاوضے کی فوری فراہمی کا اعلان کیا گیا اور واقعے کی تحقیقات کیلئے پانچ ممبران پر مشتمل JIT کی منظوری دی گئی ۔

(جاری ہے)

نگران وزیراعلیٰ کی زیر نگرانی کیبنٹ کمیٹیبھی تشکیل دی گئی جوہر دو تین روز بعد انوسٹی گیشن میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت زخمیوں کے علاج کیلئے بہترین طبی سہولیات بشمول ہیلی کاپٹر فراہم کرے گی اور علاج معالجے کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی ۔

نگران صوبائی وزراء، اسداللہ خان چمکنی، عبدالروف خٹک،ظفر اقبال بنگش، انوارالحق، محمد راشد خان،چیف سیکرٹری نوید کامران بلوچ،آئی جی پی محمد طاہر، کمشنرپشاوراور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو خود کش دھماکے کی ابتدائی تفصیل اور جگہ سے اکھٹی کی گئی معلومات کے حوالے سے بریف کیا گیا ۔ دوست محمد خان نے نئی ابھرنے والی صورت حال میں سیکورٹی کی سطح بڑھانے کی ہدایت کی اور کہا کہ وفاقی حکومت جلد ہی ایف سی صوبے کے حوالے کر دیگی۔

دوست محمد خان نے موثر سکیورٹی اقدامات کیلئے ایک مکمل پلان دیا جس میں مانیٹرنگ طریق تحقیق ، اداروں میںباہمی روابط میں اضافے سمیت معلومات اکھٹی کرنے اور معلومات کے تبادلے کا میکنزم شامل ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم عوام اور ملک کے نادیدہ دشمن سے صرف نظر نہیں کر سکتے ۔ دشمن ملک اور لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا چاہتا ہے اور آسان اہداف کو نشانہ بنا کر عام انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے جس میں وہ کامیاب نہیں ہو گا۔

انہوںنے موجودہ صورتحال میں پولیس کو چوکنا رہنے کی ہدایت کی ۔انہوں نے سیکورٹی کو بہتر بنانے ، انتخابی عمل کے تناظر میں الیکشن لڑنے والے امیدواروں اور بڑے لیڈروں کو زیادہ سیکورٹی دینے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ شفاف، منصفانہ اور غیر جاندارانہ انتخابات کیلئے سیاسی پارٹیاں مدد کریں۔انہوں نے کہا کہ شفاف اور پر امن انتخابات کا انعقاد انکی اولین ترجیح ہے جسکے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔

انہوںنے کہاکہ پرامن انتخابات کے انعقاد کیلئے اربوں روپے خرچ کئے جا چکے ہیں تاکہ عوام کو اپنے اُمیدواروں کے انتخاب کا پرامن موقع دیا جا سکے ۔ انہوںنے کہاکہ مذکورہ واقعے نے سکیورٹی کے اقدامات میں کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے ۔ اسلئے ہمیں ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا اور سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے ۔ نگران وزیراعلیٰ نے پیشگی اطلاعاتی نظام کو موثر بنانے اور اداروں کے مابین بھرپوررابطہ کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ ملک اور عوام کے خلاف سازش کو بے نقاب کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔

اجلاس میں صوبے کے تمام داخلی راستوں کی نگرانی اور موثر حکمت عملی کے ذریعے دہشت گردی کے راستے ختم کرنے کیلئے پلان کی بھی منظوری دی گئی ۔نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ انسان کی زندگی بہت قیمتی ہے جس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے ۔ الله تعالیٰ نے یہ ذمہ داری دی ہے تو اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داری پوری کریںگے۔ اُنہوںنے کہاکہ ممکنہ خطرات کو ہر زاویے سے دیکھنا ہوتا ہے اور پھر اُس کے مطابق سکیورٹی انتظامات کرنے ہوتے ہیں اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی ناقابل برداشت ہو گی ۔