شارجہ:فرانسیسی گھرانہ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

خاتون کا پاکستانی خاوند اُسے بے سہارا چھوڑ کر وطن سدھار گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات جولائی 15:21

شارجہ:فرانسیسی گھرانہ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور
شارجہ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12 جُولائی 2018) ایک فرانسیسی مسلم خاتون اپنے چھ بچوں کے ساتھ شارجہ میں خیرات پر گزارا کر رہی ہے۔ بدنصیب خاندان کے رہائشی ویزے دو سال قبل ختم ہو گئے تھے اور اب اُن کی ساری اُمیدیں ویزا ایمنسٹی سے جُڑی ہیں جس کے بعد وہ متحدہ عرب امارات میں نیا جیون شروع کر سکتے ہیں۔ افلاس کے شکار اس خاندان میں تین بچے اور تین بچیاں شامل ہیں جن کی عمریں 4 سال سے 16 سال کے درمیان ہیں۔

یہ تمام بچے سکول کی تعلیم سے محروم ہیں۔ فضیلہ نامی خاتون کے مطابق ’’ میرے بچوں کا کوئی قصور نہیں۔ یہ بیچارے تو حالات کے مارے ہیں۔ میں بہت کوشش کر رہی ہوں کہ کسی طرح ملازمت مل جائے تاکہ میرے یہاں قیام کو قانونی حیثیت مل سکے۔ جس کے بعد میرے بچے سکول جائیں۔مگر ابھی تک میری انتھک کوشش کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

مجھے اُمید ہے کہ ویزہ ایمنسٹی سکیم کے باعث میں یہاں زندگی کا نئے سرے سے آغاز کر سکتی ہوں۔

‘‘ پچاس سال کی عمر کو پہنچتی خاتون کا کہنا ہے کہ اُس کا پاکستانی خاوند اُسے دو سال قبل بے سہارا چھوڑ کر پاکستان واپس چلا گیا۔ ’’میرے تین بچے میری پہلی شادی سے تھے اور فرانس میں رہ رہے تھے۔ مجھے اُنہیں ملنے کے لیے وقتاً فوقتاً فرانس جانا پڑتا تھا۔ 2016ء میں مَیں انہیں متحدہ عرب امارات لے آئی۔ میرے دوسرے خاوند نے ان بچوں کی کفالت کو خود پر بوجھ خیال کیا اور اسی وجہ سے ہمیں چھوڑ کر چلا گیا۔

‘ ‘ فضیلہ فرانس میں کپڑوں کے ایک چھوٹے سے کاروبار سے جُڑی تھی‘تاہم وہ 2007ء میں متحدہ عرب امارات آ گئی کیونکہ اُس کے مطابق وہاں مسلمانوں کے لیے زندگی آسان نہیں تھی۔ ’’یہاں آ کر میں نے اپنی جمع کی ہوئی رقم سے ایک سیلون شروع کیا ۔ یہیں میری ملاقات ایک پاکستانی شخص سے ہوئی اور 2008ء میں ہم رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ میری تینوں بچیوں کی پیدائش بھی فرانس میں ہی ہوئی‘ کیونکہ میں ہر تین مہینے بعد وہاں بچوں سے ملنے جایا کرتی تھی۔

تاہم معاشی مشکلات کے باعث سیلون بند کرنا پڑا اور خاوند کے کاروبار پر بھی بُرا وقت آن پڑا۔ جس کے بعد ہماری محبت میں دراڑ پیدا ہو گئی۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ ہمیں یوں بے آسرا چھوڑ کر چلا جائے گا۔ میرے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی اور میں اپنے بچوں سمیت سڑکوں پر آ گئی۔ اس دور میں ہم لوگ راہگیروں کی مہربانی اور خیرات پر پلتے رہے۔

آخر ہمیں شارجہ میں دو ماہ قبل شراکت داری کے ساتھ ایک گھر مِل گیا۔ ہم سب اس مکان کے ایک کمرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہمسایوں اور خیر خواہوں کی اِمداد ہی ہمارا واحد سہارا ہے۔ مگر یہ سب کچھ اور کتنی دیر چل سکتا ہے؟ میں در در جا کر نوکری کی بھیک مانگ رہی ہوں۔ ‘‘جبکہ خاتون کی ایک ہمسائی نے بتایا کہ ان لوگوں کی مفلسی دیکھ کر ہمارا جی بھر آیا۔

ہماری طرف سے ان کے لیے سب سے پہلے خوراک اور کپڑوں کا بندوبست کیا گیا۔ ہمارے کچھ جاننے والے بھی ان کی مدد کر رہے ہیں جس کے باعث یہ اپنی رہائش کا پینتیس سو درہم کرایہ ادا کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ فضیلہ کے بیٹے شمس کے مطابق مشکل ترین حالات کے باوجود وہ فرانس جانے کو تیار نہیں کیونکہ وہ زندگی بہت مشکل تھی۔ سکولوں میں بھی دُوسرے بچے اُن سے اجنبیوں کی طرح کا برتاؤ کرتے تھے۔ بچے اپنی ماں کی اُن کی خاطر جدوجہد اور ایثار کو بہت زیادہ سراہتے ہیں۔ فضیلہ کا کہنا ہے کہ اُس کے دونوں خاوند اُس کی مالی طور پر مدد نہیں کر رہے۔ مگر وہ ماں ہے اس لیے اذیتوں‘ ابتلاؤں اور دُکھوں کی یہ لڑائی تنِ تنہا لڑ رہی ہے۔

Your Thoughts and Comments