احتساب عد الت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست خارج کر دی،

سماعت 17جولائی تک ملتوی ،قانون کے مطابق فرد جرم عائد کرنے کے بعد ریفرنس منتقل نہیں کر سکتا، اس کے لیے متعلقہ فورم ہائیکورٹ ہے اور اگر دوسرے صوبے میں کیس منتقل کرنا ہو تو سپریم کورٹ متعلقہ فورم ہے، احتساب عدا لت کے فاضل جج محمد بشیر کے ریمارکس

جمعرات جولائی 16:56

احتساب عد الت نے  العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس دوسری عدالت منتقل کرنے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جولائی2018ء) احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست خارج کردی، احتساب عدا لت کے فاضل جج محمد بشیر نے کہا کہ قانون کے مطابق فرد جرم عائد کرنے کے بعد ریفرنس منتقل نہیں کر سکتا، اس کے لیے متعلقہ فورم ہائیکورٹ ہے اور اگر دوسرے صوبے میں کیس منتقل کرنا ہو تو سپریم کورٹ متعلقہ فورم ہے،احتساب عدالت نے نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت 17جولائی تک ملتوی کردی۔

جمعرات کواسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس کی سماعت ہوئی۔کیس کی سماعت احتساب عدالت کے فاضل جج محمد بشیرنے کی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کی تو اس موقع پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ریفرنس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست جمع کرائی۔

(جاری ہے)

کیس کی سماعت کے دوران فاضل جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ مدت میں توسیع سے متعلق عدالتی حکم نامے کی کاپی آپ کے پاس ہی جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ حکم نامے کی کاپی ابھی دفترسے موصول نہیں ہوئی۔

سردار مظفر نے کہا کہ حکم نامے کی کاپی پیش کرنے کیلئے تھوڑا وقت دیا جائے جس پر عدالت نے ریفرنس کی سماعت میں 12 بجے تک کا وقفہ کیا۔احتساب عدالت میں وقفے کے بعد سماعت کے آغاز پرنیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مدت میں توسیع کا سپریم کورٹ کا حکم نامہ ابھی نہیں ملا جس پرجج نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ نے آرڈرکیا سنایا تھا ۔سردا مظفر نے عدالت کو بتایا کہ سنا ہے عدالت عظمی نے 6 ہفتے کی مزید مہلت دی ہے جس پر جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ دیکھناہوگا سپریم کورٹ کے حکم نامے میں لکھا کیا گیا ہے۔

معاون وکیل ظافرخان نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ حارث راستے میں ہیں، وہ بہتربتا سکتے ہیں جس کے بعد سماعت میں 10 منٹ کیلثے وقفہ کردیا گیا۔عدالت میں وقفے کے بعد سماعت کا آغاز ہوا تو نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے ریفرنس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست دائر کی۔خواجہ حارث نے معزز جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی ذات پراعتراض نہیں، قانون کا تقاضا ہے کہ ریفرنس دوسری عدالت منتقل کیے جائیں۔

جج محمد بشیر نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق فرد جرم عائد کرنے کے بعد ریفرنس منتقل نہیں کرسکتا، اس کیلئے متعلقہ فورم ہائی کورٹ ہے اور اگر دوسرے صوبے میں کیس منتقل کرنا ہو تو سپریم کورٹ متعلقہ فورم ہے۔احتساب عدالت کے جج نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں آرڈر میں لکھ دیتا ہوں کہ آپ کے تحفظات ہیں۔دوسری جانب نیب پراسیکیوٹر نے ریفرنس دوسری عدالت منتقل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ فرد جرم آپ نے عائد کی، بہتر ہے عدالت ریفرنسز پرسماعت کرے۔

سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ نے عدالت سے درخواست کی کہ سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کی جائے تاکہ ہم متعلقہ فورم سے رجوع کرسکیں۔بعدزاں احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت 17 جولائی تک ملتوی کردی۔