سپریم کورٹ نے لاہور کے حلقہ این اے 125 میں دوبارہ انتخاب کرانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا

جمعرات جولائی 17:37

سپریم کورٹ نے لاہور کے حلقہ این اے 125 میں دوبارہ انتخاب کرانے کے فیصلے ..
لاہور۔12 جولائی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جولائی2018ء) سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کی اپیل منظور کرتے ہوئے دو ہزار تیرہ کے الیکشن میں لاہور کے انتخابی حلقہ این اے 125 میں دوبارہ انتخاب کرانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے خواجہ سعد رفیق کی اپیل پر فیصلہ سنایا جس میں الیکشن ٹربیونل کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا جس میں دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں لاہور کے حلقہ این اے 125 میں خواجہ سعد رفیق کی کامیابی کو کالعدم قرار دیکر دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا گیا، دو رکنی بنچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے اپیل منظور کرلی اور الیکشن ٹربیونل کے دوبارہ انتخاب کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن ٹربیونل کے سربراہ جاوید رشید محبوبی نے 2015 میں حامد خان کی انتخابی عذر داری پر حلقہ این اے 125 میں دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا، عذر داری میں الزام لگایا گیا کہ حلقہ این اے 125 میں دھاندلی اور بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں اس لیے انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دیا۔

(جاری ہے)

سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سابق وفاقی وزیر ریلوے کی اپیل پر اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں بنچ نے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے پر عمل درآمد روک دیا تھا، سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق کی اپیل پر 19 مارچ کو کارروائی مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

جمعرات کو سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے الیکشن ٹربیونل کے انتخابی حلقہ این اے 125 میں دوبارہ انتخاب کرانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔