کرپشن کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا ،ْ سپریم کورٹ

کروڑ روپے کا عطاالحق قاسمی کیلئے منظور شدہ پیکج سے کوئی تعلق نہیں ،ْ27 کروڑ کے پیکج میں دیگر چیزیں بھی شامل کی گئی ہوں گی ،ْسابق سیکرٹری خزانہ عطاء الحق قاسمی کی تقرری کا معاملہ خوفناک ہے، اگر وزیر خزانہ کے نوٹ کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کس نے کس کو لکھا ہے ،ْ اٹارنی جنرل

جمعرات جولائی 18:10

کرپشن کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا ،ْ سپریم کورٹ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جولائی2018ء) سپریم کورٹ نے عطاالحق قاسمی کی بطور چیئرمین پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی تقرری پر لیے گئے از خود نوٹس میں فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جمعرات کو چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ،ْاس موقع پر سابق سیکریٹری خزانہ وقار مسعود بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

سابق سیکرٹری خزانہ نے بیان حلفی جمع کروانے کے بعد عدالت کو آگاہ کیا کہ عطاء الحق قاسمی کی ماہانہ 15 لاکھ تنخواہ مقرر کرنے پر میں نے اعتراض اٹھایا تھا۔انہوں نے بتایا کہ 27 کروڑ روپے کا عطاالحق قاسمی کے لیے منظور شدہ پیکج سے کوئی تعلق نہیں، 27 کروڑ کے پیکج میں دیگر چیزیں بھی شامل کی گئی ہوں گی۔انہوںنے کہاکہ عطاالحق قاسمی کو دی گئی مراعات کے سلسلے میں سمری وزارت خزانہ سے ہوتی ہوئی وزیراعظم سیکرٹریٹ کو بھیجی گئی تھی جس میں ایم ڈی پی ٹی وی کو اد ا کیے جانے والے پیکج کی مجموعی رقم 54 لاکھ روپے تھی۔

(جاری ہے)

سابق سیکریٹری خزانہ وقار مسعود نے عدالت کو بتایا کہ تنخواہ کی سمری وزارت اطلاعات نے بھیجی تھی جبکہ تنخواہ کی سمری کا جائزہ متعلقہ ونگ نے لیا تھا اور ایم ڈی پی ٹی وی 14لاکھ روپے تنخواہ لے رہے تھے۔دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا عطاء الحق قاسمی کی بھاری تنخواہ کیلئے کسی نے ہدایت کی تھی۔اس حوالے سے عدالت میں موجود سابق سیکریٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ عطا الحق قاسمی کی تقرری کی سمری میری جانب سے نہیں بھیجی گئی۔

جس پر اٹارنی جنرل آف پاکستان کا کہنا تھا کہ عطاء الحق قاسمی کی تقرری کا معاملہ خوفناک ہے، اگر وزیر خزانہ کے نوٹ کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کس نے کس کو لکھا ہے۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے عطاالحق قاسمی کی تقرری کیلئے وزیراعظم سیکریٹریٹ اور وزارت خزانہ کو بھیجی جانے والی سمری طلب کرلی۔۔چیف جسٹس نے اس حوالے سے ریمارکس دیے کہ یہ مقدمہ مزید تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے ،ْ کئی دفعہ کہا ہے کہ اسحق ڈار مہربانی کرتے اور محبت سے آ جاتے تو بہت سی چیزیں واضح ہو جاتیں، لیکن وہ آتے ہی نہیں ان کی کمر کا درد ہی ختم نہیں ہوتا۔

اس دوران چیف جسٹس نے مزید ریمارکس میں کہا کہ سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کہتے تھے وزیراعظم سیکرٹریٹ کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہم نے عطاالحق قاسمی کو اسی لیے طلب کیا تھا اس حوالے سے پی ٹی وی کی ریسرچر جویریہ قریشی کا عدالت میں کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پی ٹی وی میں سے ہی قابل افراد کی بطور ایم ڈی تقرری کرے، اس کے ساتھ پی ٹی وی کا گزشتہ 5 سال کا آڈٹ بھی کروایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ عطاالحق قاسمی کو بھی انہی لوگوں نے چارج دیا جنہوں نے سابق ایم ڈی عبدالمالک کو تعینات کیا تھا،آخر کب تک پی ٹی وی ایسے ہی چلتا رہے گا اس حوالے سے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ ساری ذمہ داریاں تو ایگزیکٹو کی ہیں ،ْکرپشن کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا، بچوں کو تعلیم اور دوائیاں نہیں مل رہیں، یہ کہتے ہوئے چیف جسٹس آبدیدہ بھی ہوگئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ کیا اسحق ڈار تشریف لائے ہیں سیکرٹری داخلہ بتائیں اسحاق ڈار کو کیسے واپس لانا ہے۔اس پر سیکریٹری داخلہ نے تجویز دی کہ اسحق ڈار کا پاسپورٹ کینسل کر دیتے ہیں۔کیس کے حوالے سے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ میں بیشتر لوگوں کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں، اب ہم فیصلہ کریں گے کہ چیئرمین پی ٹی وی کی تقرری قانونی تھی یا غیر قانونی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عطا الحق قاسمی کو پندرہ لاکھ روپے دینے کا جواز تھا ہو سکتا ہے یہ معاملہ نیب کو بھجوا دیں، نیب کے حکام ابھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔اس پر اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ ابھی رقم واپس ہوجاتی یے تو مقدمہ نیب کو نہ بھجوایا جائے۔۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب بتائیں عطاالحق قاسمی معاملے کی سماعت کس ادارے سے کروائیں آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہی اس پر جواب دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ میں عطاء الحق قاسمی کو کبھی نہیں ملا لیکن ان کی کتابیں پڑھی ہیں، بڑے دکھ کی بات ہو گی اگر اتنی بڑی شخصیت جیل جائے گی۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ میری تجویز ہو گی کہ عطاء الحق قاسمی رقم واپس کر دیں، فیض احمد فیض بھی جیل میں گئے تھے اور آج ہم انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔اٹارنی جنرل کی بات پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ فیض احمد فیض کسی مقصد کیلئے جیل میں گئے تھے، انہوں نے یہ مراعات نہیں لی تھیں۔بعد ازاں ایم ڈی پی ٹی وی کی تقرری کے معاملے پر سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ اسحق ڈار کی واپسی اور ایم ڈی پی ٹی وی کو مراعات دینے کے معاملے پر سماعت ہفتے کو ہوگی۔