ریحام خان کی کتاب بالآخر منظر عام پر آگئی ،ْاپنی زندگی کے حوالے سے کئی انکشافات

اعجاز نیند سے جگانے پر پٹائی کرتے، بچوں کو مغربی کھانوں پر لگانے پر اعجاز اکثر طویل لیکچر دیتے ،ْ بچے کے پیزا کھانے کی خواہش پر بھی بڑھک اٹھے ،ْ کتاب سربراہ عمران خان سے ملاقات کیلئے میں نے اپنے گارڈ کو ہمہ وقت ساتھ رہنے کی ہدایت کی ،ْمیرے بیٹے نے عمران خان کے گلے میں بازوڈالناچاہا ،ْ عمران پیچھے ہٹ گیا ،ْمتن

جمعرات جولائی 18:14

ریحام خان کی کتاب بالآخر منظر عام پر آگئی ،ْاپنی زندگی کے حوالے سے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جولائی2018ء) پاکستانی سیاست میں بھونچال مچانیوالی ریحام خان کی کتاب بالآخر منظر عام پر آگئی جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے حوالے سے کئی انکشافات کیے ۔گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کی سابق اہلیہ ریحام خان کی کتاب نے پاکستانی سیاست میں ہلچل مچادی تھی ،ْ کتاب شائع ہونے سے قبل ہی اپنے متنازع متن کے باعث خبروں کی زد میں آگئی تھی، سوشل میڈیا پر جاری کیے جانیوالے کتاب کے متن میں عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں پر الزام تراشی کی گئی تھی۔

اپنی کتاب میں ریحام خان نے عمران خان پر اقرباپروری اور جنسی ہراسگی کا الزام بھی عائد کیا تھا۔پاکستانی سیاست میں طوفان مچانے والی ریحام خان کی کتاب بالآخر منظر عام پر آہی گئی۔

(جاری ہے)

ریحام خان کی کتاب کا نام ان ہی کے نام پر یعنی ’’ریحام خان‘‘ہے۔ عمران خان کی سابق اہلیہ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے اطلاع دی کہ ان کی کتاب برطانیہ میں کتابی شکل میں جب کہ دنیا بھر میں آن لائن دستیاب ہے۔

ریحام خان نے ایک اور ٹوئٹ کرکے بتایا کہ ان کی کتاب آن لائن ویب سائٹ امیزون ڈاٹ کام پر بھی دستیاب ہے جہاں سے اسے خریدا جاسکتا ہے۔ ریحام خان کی کتاب کے 365صفحات اور 30چیپٹر(ابواب)ہیں جبکہ کتاب کی قیمت 9.99 ڈالرز ہے جو تقریباً 1200 پاکستانی روپے بنتے ہیں۔ ریحام خان نے لکھا ہے کہ کتاب کو پبلش کرنے میں میرے بیٹے ساحرنے میرا بہت ساتھ دیا۔۔ریحام خان نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ ان کے والدین ساٹھ کی دہائی میں پاکستان سے لیبیا آئے اوروہیں ان کی پیدائش ہوئی، ہم دوبہنیں اور ایک بھائی ہیں جب کہ والد لیبیا میں ڈاکٹرتھے۔

ریحام خان نے کتاب میں اپنے پہلے شوہر اعجاز کے حوالے سے چشم کشاانکشافات کیے ہیں۔ کتاب میں انہوں نے کہا کہ میرے بچے اردو، پشتو اور پنجابی روانی سے بولتے تھے، ریحام خان نے اپنی بیٹی ردھا کی پیدائش کا ذکر کیا، ردھا برطانیہ کے ہسپتال پہنچنے کے پانچ منٹ بعد ہی دنیا میں آگئی، ردھا پیدائش کے بعد مسلسل پندرہ منٹ روتی رہی جیسے دنیا میں آمد پر احتجاج کر رہی ہو، میرا بیٹا ساحر ردھا کا خیال رکھتا، گودمیں لے کراسے فیڈر پلاتا رہتا، ساحر رات کو اٹھ کر چلتا رہتا ریحام خان نے کتاب میں اپنے سابق شوہر کے ظلم کی داستان بیان کرتے ہوئے لکھا کہ اعجاز نیند سے جگانے پر اس کی پٹائی کرتے، بچوں کو مغربی کھانوں پر لگانے پر اعجاز اکثر طویل لیکچر دیتے، اعجاز بچے کے پیزا کھانے کی خواہش پر بھی بڑھک اٹھتے۔

ریحام خان نے لکھا ہے میری دوسری بیٹی انایا کی پیدائش 8 مئی 2003 کو صبح آٹھ بجے ہوئی، اگست 2003 میں اعجاز نے مجھے پاکستان میں چک شہزاد رہنے کیلئے بھیج دیا۔کتاب کے متن کے مطابق ریحام خان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کے لئے میں نے اپنے گارڈ کو ہمہ وقت ساتھ رہنے کی ہدایت کی، پہلے پارٹی سیکرٹریٹ کے ایک ٹھنڈے اور بے ترتیب بیڈ روم میں نعیم الحق نے میرا انٹرویو کیا پھر نعیم الحق میری کار میں بیٹھ گئے اور ہم بنی گالہ آ گئے، نعیم الحق آگے آگے چل رہے تھے، میرے گارڈ نے کان میں سرگوشی کی، یہ آدمی ٹھیک نہیں۔

مجھے ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں سر سے پاؤں تک بلیک لباس میں عمر رسیدہ آدمی پشت کر کے کھڑا تھا، کالے لباس والا آدمی کوئی اور نہیں لیجنڈ ((عمران خان)) خود تھا، انہوں نے مجھے پلک جھپکائے بغیر گھورنا شروع کیا، نعیم الحق نے بطور اینکر میرا تعارف کروایا، میں نے ٹخنوں تک لمبی قمیض اوپر بلیک جمپر اور بلیو ٹراؤزر پہن رکھا تھا، میں نے لباس کا انتخاب سنجیدہ نظر آنے کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا، تو آپ کہاں سے ہیں، میز کے دوسری طرف سے مسلسل گھورتے ہوئے سوال پوچھا گیا، برطانیہ سے، میں نے مختصر جواب دیا۔

عمران خان سے شادی کے بعد کے واقعات کے حوالے سے کتاب میں لکھا گیا کہ عید کے دن بنی گالہ میں عمران خان کے ساتھ بنائی گئی تصویر کے نیچے لکھا ہے کہ میرے بیٹے نے عمران خان کے گلے میں بازوڈالناچاہالیکن عمران پیچھے ہٹ گیا۔واضح رہے کہ عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے بھی کتاب کے متن پر اعتراض اٹھاتے ہوئے ریحام خان کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ریحام خان کی کتاب برطانیہ میں شائع ہوئی تو وہ ان پر ہتک عزت کا دعویٰ کریں گی۔ جس پر ریحام خان کا کہنا تھا کہ ابھی میری کتاب شائع نہیں ہوئی تو یہ کسی کی ساکھ کو کیسے نقصان پہنچا سکتی ہے۔