سزا یافتہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز نے گرفتاری سے قبل ہر حال میں ریلی سے خطاب کا فیصلہ کرلیا

وفاقی اور صوبائی حکومت پنجاب نے طے کر لیا نوازشریف کو کسی صورت ریلی سے خطاب کی اجازت نہیں دی جائے گی، انھیں فوری طور پر لاہور ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کرکے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد منتقل کر دیا جائے گا ن لیگ کی قیادت اور کارکن اج جمعہ کو لاہور میں حالات خراب کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں اور شہباز شریف جس ریلی کی قیادت کرتے ہوئے لاہور ایئرپورٹ جائینگے اسے روکنے کی صورت میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رپورٹ دے دی

جمعرات جولائی 22:51

سزا یافتہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز نے گرفتاری ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جولائی2018ء) مسلم لیگ ن کے سزا یافتہ سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز نے گرفتاری دینے سے قبل ہر حال میں لاہور ان کے استقبال کے لیے انے والی ریلی سے خطاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومت پنجاب نے طے کر لیا ہے کہ نوازشریف کو کسی صورت ریلی سے خطاب کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انھیں فوری طور پر لاہور ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کرکے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد منتقل کر دیا جائے گا حالات زیادہ خراب ہوئے تو جہاز کو کراچی۔۔

ملتان اور اسلام آباد کی طرف موڑ دیا جائے گا قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وفاقی حکومت کو دی گئی اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ۔۔ن لیگ کی قیادت اور کارکن اج جمعہ کو لاہور میں حالات خراب کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں اور شہباز شریف جس ریلی کی قیادت کرتے ہوئے لاہور ایئرپورٹ جائینگے اسے روکنے کی صورت میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے اور معاملات پولیس کے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں زرایع کا کہنا ہے کہ پنجاب رینجرز کی خدمات کے لیے بھی کہا گیا تھا مگر رینجرز ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کے علاوہ سیاسی جلوس کو روکنے کے لیے تیار نہیں ہے جبکہ زرایع کا کہنا ہے کہ فوج نے اس سارے معاملے سے خود کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور سول حکومت پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو خود حل کرے زرایع نے۔

(جاری ہے)

مزید بتایا کہ نواز شریف تقریبا سو افراد کے ساتھ برطانیہ سے ارہے پیں جبکہ یو اے ای سے بھی وہ بعض اہم شخصیات کو ساتھ لیکر ائینگے میڈیا کے افراد بھی ان کے ساتھ ہونگے اگر کوئی جہاز کے اندر نیب کی ٹیم یا پولیس ان سے دست اندازی کرے تو اسے میڈیا دکھا سکے اور جو کارکن جہاز میں ہونگے وہ بھی مزاحمت کا منصوبہ بنائے ہوئے ہیں زرایع نے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت اسی لیے ن لیگ کے کارکن گرفتار کر رہی ہے کیونکہ۔انھیں رپورٹس مل۔چکی ہیں کہ اج جمعہ۔کو۔گڑبڑ ہو کتی ہے اور اگر ن لیگ پچاس ہزار افراد بھی باہر نکالنے میں۔کامیاب ہوگئی تو ان کو کنٹرول کرنا مشکل۔ہوگا اس لیے جہاں ن لیگ اپنے تمام۔اپشنز استعمال کرے گی وہاں پر حکومت بھی اپنے تمام ایشنز استعمال میں لائے گی