الیکشن کمیشن حکام کو بریفنگ کیلئے طلب کیا جائے،رضا ربانی کا مطالبہ

عام انتخابات وقت سے قبل ہی متنازع ہو چکے، وجہ ان میں مداخلت اور الیکشن کمیشن کے آئینی کردار میں ناکامی ہے، ایک جماعت کے کہنے پر پولنگ کا وقت کیسے بڑھا دیا گیا عدالت نے ایک آمر کو انتخابات لڑنے کی اجازت دی، آرٹیکل 6 کے مجرم کو الیکشن لڑنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہی انتخابات میں مداخلت سے متعلق بیان دیا گیا اور پھر اسے واپس لے لیا ،ایسا کیوں ہوں سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال

جمعرات جولائی 23:02

الیکشن کمیشن حکام کو بریفنگ کیلئے طلب کیا جائے،رضا ربانی کا مطالبہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جولائی2018ء) ایوان بالا کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق چیئر مین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹر میاں رضا ربانی نے اجلاس سے متعلق چیئرمین کے فیصلے کو سراہتے ہوئے ہے کہ میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ عام انتخابات وقت سے قبل ہی متنازع ہو چکے ہیں جس کی وجہ ان میں مداخلت اور الیکشن کمیشن کے آئینی کردار میں ناکامی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کو انتخابات منعقد نہ ہونے اور ان کے ملتوی کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔۔پرویز مشرف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ عدالت نے ایک آمر کو انتخابات لڑنے کی اجازت دی، آرٹیکل 6 کے مجرم کو الیکشن لڑنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہی انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف ملک میں واپس نہیں آئے جس پر فیصلے کو واپس لے لیا گیا۔

پولنگ کا وقت بڑھانے کے معاملے پر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ایک جماعت کے کہنے پر کس طرح پولنگ کا وقت بڑھا دیا گیا سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے الیکشن کمیشن کے حکام کو بریفنگ کے لیے سینیٹ میں طلب کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں فوج کی تعیناتی اور انہیں اختیارات دینا ایک اہم معاملہ ہے، تاہم الیکشن کمیشن فوج کو دیے گئے اختیارات سے متعلق ایوانِ بالا کو اعتماد میں لے۔

سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے انتخابات میں مداخلت سے متعلق بیان دیا اور پھر اسے واپس لے لیا لہذا یہ جاننا ضروری ہے کہ انہوں نے اپنا بیان واپس کیوں لیا۔سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں پر انتخابات سے دستبردار ہونے یا پھر سیاسی جماعت تبدیل کرنے کے لیے دبا ڈالا جارہا ہے جس پر پارٹی کو تشویش ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ نگراں حکومت کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے اور ان کے وزیر آکر بتائیں کہ ان کے انتخابی امیدواروں پر دبا کیوں ڈالا جارہا ہے۔۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے قومی احتساب بیورو (نیب) پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیب کو صرف 2 جماعتیں نظر آ رہی ہیں جبکہ اسے تیسری جماعت نظر نہیں آ رہی۔ان کا کہنا تھا کہ جو لوٹے وفاداری تبدیل کر کے دوسری پارٹی میں گئے کیا وہ پاک ہوگئے ہیں ان کا احتساب کیوں نہیں کیا جارہامیاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ ملک میں انتخابی عمل کے حوالے سے مختلف سوالات سامنے آ رہے ہیں، پولنگ کا وقت بڑھانے کے لئے دوسری جماعتوں سے مشاورت کیوں نہیں کی گئی۔

۔انہوں نے کہا کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بیان دیا تھا کہ بعض بیرونی قوتیں انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں بعد میں وہ اپنے اس بیان سے پیچھے ہٹ گئے۔ نگران وزیر داخلہ نے بھی اسی طرح کا بیان دیا۔خیبر پختونخوا کے وزیراعلی کی طرف سے بھی ایک بیان سامنے آیا۔ لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے کاغذات نامزدگی کے فارم کے حوالے سے فیصلہ اور پھر سپریم کورٹ کی طرف سے اس معاملے کو زیر سماعت لانے اور حلف نامے کو شامل کرنے جیسے معاملات بہت اہم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی میڈیا کے خلاف کریک ڈائون کے حوالے سے رپورٹ بھی آئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے پہلے تقرریوں اور تبادلوں پر پابندی عائد کی، بعد میں نگران حکومت کو اس کی اجازت دے دی۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت نے پولنگ کا وقت بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے پولنگ کا وقت بڑھانا بھی سوالیہ نشان ہے۔ دیگر جماعتیں بھی انتخابی عمل میں حصہ لے رہی ہیں کیوں ان جماعتوں سے اس معاملے پر مشاورت نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ لیاری میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر حملہ ہوا، اچ شریف میں ان کے قافلے کو روکا گیا، لوگوں کو ہراساں کئے جانے کے معاملے کا جواب دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کے متعلقہ وزرا کو ہمارے سوالات کا جواب دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کے حوالے سے جو بھی سوالات اٹھ رہے ہیں ان پر غور کے لئے کمیٹی آف دی ہول کا اجلاس بلایا جائے۔

Your Thoughts and Comments