نواز شریف کی آمد سے قبل شہباز شریف کو بھی گرفتار کر لیے جانے کا امکان

میری گرفتاری کی صورت میں قائد مسلم لیگ ن کے استقبال کی ذمہ داری حمزہ شہباز سنبھال لیں گے: صدر ن لیگ کا اعلان

muhammad ali محمد علی جمعرات جولائی 20:54

نواز شریف کی آمد سے قبل شہباز شریف کو بھی گرفتار کر لیے جانے کا امکان
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 جولائی 2018ء) نواز شریف کی آمد سے قبل شہباز شریف کو بھی گرفتار کر لیے جانے کا امکان، میری گرفتاری کی صورت میں قائد مسلم لیگ ن کے استقبال کی ذمہ داری حمزہ شہباز سنبھال لیں گے، صدر ن لیگ کا اعلان۔ تفصیلات کے مطابق صدر ن لیگ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نوازشریف سے میری آج بھی ٹیلیفون پربات ہوئی ہے، انہوں نے مجھے کہا کہ ہم کل وطن واپس آرہے ہیں۔

نوازشریف نے یہ بھی کہا کہ یہ غلط افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ ان کی فلائٹ منسوخ ہوگئی ہے۔ شہبازشریف نے کہا کہ نوازشریف کی کوئی فلائٹ کینسل نہیں ہوئی نوازشریف اسی فلائٹ پرپاکستان پہنچیں گے۔ ہم لاہور ایئرپورٹ جائیں گے اور ان کا فقیدالمثال استقبال کریں گے۔ اپنی گرفتاری کے امکان کے حوالے سے شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری کی صورت میں قائد مسلم لیگ ن کے استقبال کی ذمہ داری حمزہ شہباز سنبھال لیں گے۔

(جاری ہے)

اگر حمزہ شہباز کو گرفتار کیا جاتا ہے تو پھر استقبال کی ذمہ داری سلمان شہباز سنبھال لیں گے۔ اور اگر انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا تو پھر میری بیٹیاں یہ ذمہ داری سنبھال لیں گے۔ انہوں نے مزی کہا کہ نوازشریف کیخلاف احتساب عدالت نے فیصلہ دیا اور کرپشن میں بری قراردیا ہے۔ جبکہ بیٹی مریم کو معاونت میں سزا دی گئی۔ اس کے باوجود میاں نوازشریف نے کہا کہ میری اہلیہ بیمار ہیں اور میں ان کوخدا حافظ کہہ کرپاکستان جا رہا ہوں۔

وہ جانتے ہیں کہ ان کوکوئی ٹرافی نہیں دی جائے گی۔ان کوپتا ہے کہ ان کوجیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے گا۔ ہم نے فوراً فیصلہ کیا کہ مسلم لیگ ن ان کا فقیدالمثا ل پرامن استقبال کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی خدمت کرنے والے ہیں اور ہم پاکستان کے معمار ہیں۔ پاکستان کودھرنوں سے تباہ کرنے والے اور ہیں۔ہم پاکستان کوخود بنائیں اور خود توڑ دیں ایسا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرسوں سے انتظامیہ ، وزیراعلیٰ پنجاب ، سب جو کررہے ہیں،قابل افسوس ہے۔حنیف عباسی ، کے گھر پولیس گئی۔ سینکڑوں لوگوں کواٹھایا گیا۔ خواتین سے بدتمیزی اور کہا کہ اپنے لوگوں کونکالیں۔ہمارے لاہور،، راولپنڈی اور پنجاب سے سینکڑوں کارکنوں کوگرفتار کرلیا گیا ہے۔ان کوتین دن کیلئے بند رکھا جائے گا۔پکڑ دھکڑ الیکشن سے قبل پری پول دھاندلی ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ تین روزتک کسی کوگرفتارنہ کیا جائے۔ لیکن یہاں نگراں پنجاب حکومت نے سینکڑوں گرفتاریاں کی ہیں۔یہ کیا تماشا ہے؟انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کواس بات کا پتا چل گیا ہے کہ مسلم لیگ ن نشانہ ہے۔ہماراکل کا پروگرام بالکل امن ہے۔۔لاہور میں دفعہ 144نافذ ہے۔۔عمران خان آج 144میں جلسہ کررہے ہیں،اس سب کے باوجود ہم اب بھی پرامن رہیں گے۔

پولیس اچھی طرح کان کھول کرسن لیں قت ایک جیسا نہیں رہتا۔شہبازشریف کوگرفتار کیا توحمزہ جائے گا۔حمزہ شہباز،سلمان شہبازشریف کوگرفتار کیا گیاتومیری بیٹیاں نوازشریف کااستقبال کریں گی۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور پولیس کوخبردارکرتا ہوں کہ ظلم زیادتی روک لیں ،وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔واضح کرتا ہوں کہ ہم حکومت آکر ظلم نہیں کریں گے لیکن انصاف کریں گے اور جیلوں میں آپ بھی ہوں گے۔

الیکشن کوداغدار بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایئرپورٹ جائیں گے اور ان کابھرپور استقبال کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ ان کی فلائٹ کے بارے غلط افواہ اڑائی گئی وہ اسی فلائٹ پرواپس آئیں گے۔ایک بات طے ہے کہ وہ اپنی ذات کیلئے نہیں قوم کیلئے پاکستان آرہے ہیں۔شہبازشریف نے کہا کہ میں جرنیلوں اور ججز سے درخواست کرتا ہوں ہم سب پاکستانی ہیں۔کیا ہم نے ملکرپاکستان کوبنانا ہے یاتباہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر معاملہ میرے ہاتھ سے نکل گیا توپھر مجھے نہ کہنا۔کیونکہ مجھے اپنی پارٹی ورکروں کا دفاع کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔