ابو ظہبی:غیر مُلکی خواتین کے تحفظ کے لیے بھارتی خاتون میدان میں آ گئی

زُوبی زیدی کو امارات میں قیام کے دوران خود بھی سُسرالی استحصال سہنا پڑا

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ جولائی 13:46

ابو ظہبی:غیر مُلکی خواتین کے تحفظ کے لیے بھارتی خاتون میدان میں آ گئی
ابو ظہبی( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔14 جُولائی 2018) 2014ء میں بھارتی مسلم خاتون زُوبی زیدی کی شادی 26 سال کی عمر میں روایتی طریقے یعنی گھر والوں کی مرضی سے انجام پائی۔ اُسے بتایا گیا تھا کہ اُس خاوند اُس سے عمر میں تقریباً 12 سال بڑا ہے اور اُس کے پاس امریکی شہریت ہے۔ اُس کا خاوند ابو ظہبی میں مقیم تھا۔اس لیے وہ شادی کے بعد اپنا آبائی شہر لکھنؤ چھوڑ کر خاوند کے ساتھ ابو ظہبی چلی گئی۔

جہاں ایک اپارٹمنٹ میں زیدی کا خاوند‘ ساس سُسر اور نند دیور بھی مقیم تھے۔ سُسرال والوں کے ساتھ قیام کے دوران اُس کے ساتھ کچھ ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے اُسے سُسرالی جبر و استحصال کا نشانہ بننے والی خواتین کی مدد لیے اُبھارا۔زُوبی زیدی کو پتا چلا کہ اُس کے خاوند نے اپنی عمر کے بارے میں جھوٹ بولا تھا اور اُس کا پہلی شادی سے ایک بچہ بھی تھا۔

زُوبی کے مطابق ’’مجھے اُن کے جھوٹ کا تب احساس ہونا شروع ہوا جب انہوں نے امریکا میں ایک بزنس شروع کرنے کے لیے میرے گھر والوں سے بڑی رقم کا تقاضا کیا۔ میں نے ان کا یہ ناجائز مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا جس کے بعد اُنہوں نے میرے خلاف پُرتشدد رویہ اپنا لیا۔میرے انکار کے بعد مجھے کئی جذباتی‘ جسمانی اور نفسیاتی اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا۔

یہاں تک کہ ایک بارتو خلیفہ سٹی میں واقع ہمارے اپارٹمنٹ میں مجھے تین دِن کے لیے قیدمیں رکھا گیا۔ جہاں سے میں کسی طرح بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو کر اپنے ماں باپ کے پاس لکھنو پہنچ گئی‘ مگر وہاں پہنچتے ہی طلاق نامہ میرا انتظار کر رہا تھا۔‘‘ اب 30 سالہ کی عمر کو پہنچ چکی زُوبی ایک وکیل بن چُکی ہے اور ایسی خواتین کے لیے تحریک چلا رہی ہے جو اپنے غیر مُلکی خاوندوں کے ہاتھوں اُس جیسی ظلم و زیادتی کا شکار ہوئیں۔

زُوبی کے مطابق بیرونِ ممالک مقیم بیشتر خواتین کو اُن کے میکے سے دُوری کے باعث خاوند اور سُسرالی رشتے دار جبر و استحصال کا نشانہ بناتے ہیں۔ بہت ساری خواتین چُپ کر کے ظلم زیادتی سہتی ہیں۔ جبکہ کئی خواتین کو اُن کے خاوند بیرونِ مُلک چھوڑ کر کہیں غائب ہو جاتے ہیں اور وہ وہاں کسمپرسی کا جیون گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں زُوبی کی فلاحی تنظیم انہیں زندگی کی طرف دوبارہ لوٹنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔زُوبی کا ادارہ دو سو کے قریب ایسی خواتین کا سہارا بن چُکا ہے جنہیں اُن کے بیرون مُلک شوہروں اور سسرالی رشتہ داروں کے ہاتھوں ظلم و زیادتی کا نشانہ بننا پڑا۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments