تحریک انصاف کے خواب حکومت بنانے سے پہلے ہی چکنا چور ہو گئے

ایسا لگتا ہے کہ اگلی حکومت پی ٹی آئی کی ہو گی لیکن زیادہ لمبا عرصہ نہیں چلے گی،عمران خان نے اگر حکومت میں آنے کے بعد دانشمندی سے کام نہ لیا تو ان کی حکومت 1.5 سال سے زیادہ نہیں چل سکے گی، معروف تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا تجزیہ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر جولائی 11:36

تحریک انصاف کے خواب حکومت بنانے سے پہلے ہی چکنا چور ہو گئے
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔16 جولائی 2018ء) معروف صحافی سہیل وڑئچ کا کہنا ہے کہ آئندہ حکومت پاکستان تحریک انصاف کی ہو گی۔لیکن یہ لمبا عرصہ نہیں چلے گی۔تفصیلات کے مطابق معروف صحافی سہیل وڑائچ کا دوران پروگرام آئندہ انتخابات کے حوالے سے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ آئندہ حکومت پاکستان تحریک انصاف کی بنے گی لیکن یہ زیادہ لمبے عرصے تک نہیں چلے گی،اور اس کیو جہ یہ ہے کہ جب دوسری سیاسی جماعتوں کو برابر کا نہیں کھیلنے دیا جائے گا تو وہ آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔

سہیل وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی حکومت ہو وہ مسائل تو حل کرتی نہیں ہے لیکن عمران خان سے امیدیں اتنی زیادہ ہیں کہ اسی حساب سے لوگوں کی مایوسی بھی بڑھے گی۔یا تو عمران خان ایک معجزہ کر دکھائیں اور ایک جادو کی چھڑی سے اقتدار میں آتے ہی لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔

(جاری ہے)

لیکن بظاہر ایسا لگتا نہیں ہے۔اور جب عمران خان لوگوں کی امیدوں پر پورا نہیں اتریں گے اور ان کے مسائل حل نہیں کر سکیں گے تو پھر مایوسی بھی اتنی جلدی بڑھے گی۔

سہیل وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ الیکشن نوجوانوں کا ہے لیکن نوجوان پھر اتنی جلدی ہی مایوس بھی ہو جاتے ہے اس لیے عمران خان نے اگر حکومت میں آنے کے بعد دانشمندی سے کام نہ لیا تو ان کی حکومت 1.5 سال سے زیادہ نہیں چل سکے گی۔یاد رہے کہ عام انتخابات میں کچھ روز ہی باقی رہ گئے ہیں۔ملک بھر میں عام انتخابات کا اعلان 25جولائی کو کیا گیا ہے۔

اور اس بار پاکستان مسلم لیگ ن اورتحریک انصاف میں کڑا مقابلہ تصور کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس بار پاکستان تحریک انصاف کا پلڑہ بھاری نظر آ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب تک کئی سیاسی رہنما اپنی پارٹیوں کو چھو ڑ کرتحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں تا ہم پاکستان مسلم لیگ ن بھی پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دینے کو تیار ہے۔البتہ نتائج کیا ہوں گے اس کا پتہ تو 25جولائی کو ہی چلے گا۔لیکن دونوں سیاسی پارٹیوں نے اپنی انتخابی مہم زور و شور سے جاری رکھی ہوئی ہے۔