دہشت گردوں کا ہدف سیاستدانوں کے ذریعے جمہوریت کو نقصان پہنچانا ہے ‘حکومت ‘سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک دشمن عناصر کے ان مذموم مقاصد کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے

‘ملک بھر میں عام انتخابات 25جولائی کو ہی ہونگے ‘ہمارا مقصد پرامن اور بروقت الیکشن کا انعقاد ہے، اس کے لئے تمام صوبائی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کو آن بورڈ لینا ہوگا ‘ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پولنگ کے دن تک کے لئے شفاف انتظامات کیے ہیں اگر پھر بھی کسی کو خدشہ ہے کہ کسی کے ساتھ ذیادتی ہورہی ہے تو وہ الیکشن کمیشن سے رجوع کر سکتے ہیں‘اس وقت ہمارے پاس جتنا طاقتور الیکشن کمیشن ہے ایسا دنیا میں نہیں دیکھا ‘چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران بااختیار ہیں، الیکشن ایکٹ 2018نے الیکشن کمیشن کو مزیدطاقت دیدی ہے ‘بعض ٹی وی چینلز کے اعتراضات تھے کہ غیر اعلانیہ سنسرشپ ہورہی ہے، اس کے لئے سینیٹ میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو اس معاملے کو دیکھ رہی ہے‘محمد نواز شریف ‘مریم نواز اور صفدر سینٹرل جیل اڈیالہ میں ہیں،جو سہولیات جیل مینوئل کے مطابق حق ہے وہ ملنی چاہیے‘نواز شریف کو ادویات کی سہولیات فوری ملنی چاہییں ، سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں پیمرا کو آزاد اور خودمختار بنا دیا ہے ، وفاقی وزیر اطلاعات‘نشریات ‘قانون ‘انصاف وپارلیمانی امور بیرسٹر سید علی ظفر کی پی ٹی وی سے خصوصی گفتگو

پیر جولائی 23:58

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 جولائی2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات‘نشریات ‘قانون ‘انصاف وپارلیمانی امور بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا ہدف سیاستدانوں کے زریعے جمہوریت کو نقصان پہنچانا ہے ‘حکومت ‘سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک دشمن عناصر کے ان مذموم مقاصد کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ‘ملک بھر میں عام انتخابات 25جولائی کو ہی ہونگے ‘ہمارا مقصد پرامن اور بروقت الیکشن کا انعقاد ہے اس کے لئے تمام صوبائی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کو آن بورڈ لینا ہوگا ‘ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پولنگ کے دن تک کے لئے شفاف انتظامات کیے ہیں اگر پھر بھی کسی کو خدشہ ہے کہ کسی کے ساتھ ذیادتی ہورہی ہے تو وہ الیکشن کمیشن سے رجوع کر سکتے ہیں‘اس وقت ہمارے پاس جتنا طاقتور الیکشن کمیشن ہے ایسا دنیا میں نہیں دیکھا ‘چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران بااختیار ہیں ،،الیکشن ایکٹ 2018نے الیکشن کمیشن کو مزیدطاقت دیدی ہے ‘بعض ٹی وی چینلز کے اعتراضات تھے کہ غیر اعلانیہ سنسرشپ ہورہی ہے اس کے لئے سینیٹ میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو اس معاملے کو دیکھ رہی ہے‘محمد نواز شریف ‘مریم نواز اور صفدر سینٹرل جیل اڈیالہ میں ہیں،جو سہولیات جیل مینوئل کے مطابق حق ہے وہ ملنی چاہیے‘نواز شریف کو ادویات کی سہولیات فوری ملنی چاہییں ‘ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں پیمرا کو آزاد اور خودمختار بنا دیا ہے،وہ پیر کو پی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کر رہے تھے ۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا کہ ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں غیر ملکی طاقتیں‘ملک دشمن عناصر اور اندورنی طاقتیں شامل ہیں انکا مقصد یہ ہے کہ الیکشن کسی طرح ملتوی ہو جائیں ‘دہشت گردی کے واقعات کا مقصد لوگوں میںخوف پھیلانا اور ملک میں جواتحاد کی فضاء ہے اسے ختم کرنا ہے ‘دہشت گردوں کا ٹارگٹ سیاستدان ہیں،اسکے زریعے جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے ‘ملک دشمن عناصرکو ان مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کی پوری تاریخ ہے ‘اے پی ایس واقع کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے ملکر نیشنل ایکشن پلان بنایا اور اس کے تحت بہت سے اقدامات کیے گئے تھے ‘پوری قوم نے ایک اتحاد کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑی اس میں کامیابی حاصل کی ‘اب بھی ہمیں پہلے سے طے شدہ ایس او پی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے دوسری جانب سیاسی جماعتوں کو الیکشن مہم کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے باقاعدہ کوڈ آف کنڈیکٹ دیا ہے۔

وزارت داخلہ ‘صوبائی ہوم وزارتوں اور متعلقہ ایجنسوں سے ملکر ایس او پیز بنائے ہیں‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو بھی ان ایس او پیز کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے کیونکہ یہ ایس او پیز انہی کے تحفظ کے لئے ہیں ‘ان ایس اوپیز پر عمل درآمد مکمل کیا جائے تو اس کے مثبت نتائج نکلیں گے ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی قائدین کی جانب سے جوبھی شکایات اور خدشات سامنے آتے ہیں انھیں مکمل اہمیت دی جاتی ہے ۔

وفاقی وزیر بیرسٹر سید علی نے کہا کہ ہمارا مقصد پرامن اور بروقت الیکشن کا انعقاد ہے اس کے لئے تمام صوبائی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کو آن بورڈ لینا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو آئین کے تحت اختیار ہے کہ صاف اور شفاف الیکشن کرائے ‘اس وقت ہمارے پاس جتنا طاقتور الیکشن کمیشن ہے ایسا دنیا میں نہیں دیکھا ‘چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران بااختیار ہیں الیکشن ایکٹ 2018نے الیکشن کمیشن کو مزیدطاقت دیدی ہے اور ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام نگران حکومتیں الیکشن کے انعقاد میں الیکشن کمیشن سے مکمل تعاون کریں ۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پولنگ کے دن تک کے لئے شفاف انتظامات کیے ہیں اگر پھر بھی کسی کو خدشہ ہے کہ کسی کے ساتھ ذیادتی ہورہی ہے تو وہ الیکشن کمیشن سے رجوع کر سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کا مینڈیٹ ہے حکومت کے روزانہ کے امور چلانا ‘ الیکشن کمیشن کو صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن کے انعقاد میں مکمل تعاون فراہم کرنا ہے،،نگران حکومت کوئی ایسا فیصلہ یا پالیسی نہیں بنا سکتی جو آنے والی حکومت کو پابند کرتی ہو‘ایسے اخراجات یا پراجیکٹ نہیں چلاسکتے جس سے آنے والی حکومت کا نکلنا مشکل ہو ۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ایسا معاملہ تھا جس کا فوری فیصلہ کرنا تھا وہ فیصلہ نگران حکومت نے کیا اور اسی طرح فاٹا کے انضمام کے بعد قانون سازی ‘یونٹس کے قیام اور امور ہمارے مینڈیٹ میں آتا ہے جس پر کام کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کے تمام وزراء دن رات کام کر رہے ہیں جو مسائل ہمیں نظر آرہے ہیں اس کا حل ڈھونڈ کر گائیڈ لائن کی شکل میں آنے والی منتخب حکومت کے لئے چھوڑ کر جائیں گے ۔

وفاقی وزیر بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد بہت سے امور صوبائی حکومتوں کے پاس ہیں، ان میں وفاق مداخلت نہیں کرسکتا ‘امن و امان سمیت بے شمار امور صوبائی حکومتوں نے چلانے ہیں جو صوبائی حکومتیں احسن انداز سے سرانجام دے رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 19 کے تحت آزادی اظہار رائے اور 19-A معلومات کی فراہمی پر مکمل یقین رکھتے ہیں‘ان دونوں پر مکمل عمل ہونا چاہیے ‘پی ٹی وی سمیت ریاستی میڈیا پر تمام سیاسی جماعتوں کو مساوی کوریج دی جارہی ہے اور گذشتہ روز سینیٹ میں بھی مساوی کوریج کی تعریف کی گئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں پیمرا کو آزاد اور خودمختار بنا دیا ہے ‘پیمرا پرائیویٹ چیلنز کو بھی کنٹرول کرسکتی ہے، اس حوالے سے کوڈ آف کنڈیکٹ بھی بنائے گئے ہیں ۔وفاقی وزیر بیرسٹر سید علی ظفر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بعض ٹی وی چینلز کے اعتراضات تھے کہ غیر اعلانیہ سنسرشپ ہورہی ہے اس کیلئے سینیٹ میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو اس معاملے کو دیکھ رہی ہے ‘ہر شکایت کا ایک حل ہوتا ہے ‘پہلے شکایات کے حقائق تک پہنچیں پھر ان کا حل ڈھونڈیں ہماری کو شش ہوتی ہے کہ تمام مسائل کو حل کیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف ‘مریم نواز اور صفدر سینٹرل جیل اڈیالہ میں ہیں جو سہولیات جیل مینوئل کے مطابق حق ہے وہ ملنی چاہیے‘نواز شریف کو ادویات کی سہولیات فوری ملنی چاہییں ۔انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت نیب اور ایف آئی اے جیسے تحقیقاتی ادارے بنائے اور اسکے ساتھ ساتھ آئین اور قانون کے تحت عدالتیں بنیں اگر کسی تحقیقاتی ایجنسی کے خلاف کوئی شکایت ہے تو وہ عدالتوں سے رجوع کریں ‘نیب نے ایک فیصلہ کیا پنجاب حکومت نے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کیا ‘نواز شریف کو اپیل کا حق ہے اگر عدالت ان کی اپیل پر کوئی فیصلہ کردیتی ہے تو اس پر بھی فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈالر کو مصنوعی انداز میں روکا گیا تھا ‘طلب ‘رسد ‘درآمد اور برآمد کو دیکھ کر ایک فارمولے کے تحت قیمت کا تعین ہوتا ہے لیکن مصنوعی انداز میں روکنے کے باعث ڈالر کی قیمت میں اتنا اضافہ ہوا ہے ‘ہماری وزیر خزانہ بہتری کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات اگر آج خریدی ہیں تو کچھ مدت کے بعد مارکیٹ میں آتی ہیں اس وقت وہ ہی قیمت ہوگی جس میں خریدا گیا ہوتا ہے اگر ایسا نہیں کرینگے تو سارا بوجھ حکومت پر پڑ جائے گا ۔

پیٹرولیم کی اصل قیمت کے ساتھ ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کے پاس یہ مینڈیٹ نہیں ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس جا کر کوئی لانگ ٹرم قرض کا معاہدہ کر لے ‘یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ ابتدائی بات چیت کرسکتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی ایک اہم ایشو ہے ‘ہر طبقہ اس کے لئے کچھ کرنا چاہ رہا ہے ‘ ہمیں 17ڈیمز بنانے چاہیے تھے لیکن صرف دو ڈیم بنائے جن میں اب پانی کا ذخیرہ کم رہ گیا ہے‘سابقہ ادوار میں ڈیمز بنانے پر توجہ نہیں دی گئی ۔

انہوں نے کہا کہ پانی کی بچث کے لئے ہمیں زراعت سے ڈراپ فار کراپ فارمولے کے تحت 95فیصد پانی بچاسکتے ہیں ‘بھارت تیزی سے ڈیمز بنارہا ہے اس سے بھی پانی کی ترسیل متاثر ہورہی ہے، دوسری جانب ہم پینے والا پانی سیوریج کے لئے استعمال کر رہے ہیں ہمیں سوچنا ہوگا،قومی اور صوبائی سطح پر بیٹھ کر ایک جامع پلان بنانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کے وزراء تمام تر مسائل اور چیلنجز پر ایک مفصل گائیڈ لائن بنا رہے ہیں۔