ْ نواز شریف کا فری ٹرائل آئین کے آرٹیکل 10اے کی روشنی میں عدالت کے اندر ہوگا ،سید علی ظفر

بدھ جولائی 16:50

ْ نواز شریف کا فری ٹرائل آئین کے آرٹیکل 10اے کی روشنی میں عدالت کے اندر ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جولائی2018ء) نگران وفاقی کابینہ نے نواز شریف کا ٹرائل اوپن کورٹ میں کرنے کا فیصلہ کرلیا، نگران وفاقی وزیر اطلاعات سید علی ظفر نے کہا کہ نواز شریف کا فری ٹرائل آئین کے آرٹیکل 10اے کی روشنی میں عدالت کے اندر ہوگا ، فاٹا میں انضمام سے پہلے ٹیکس کی شرح برقرار رکھی جائے گی اور کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،،فاٹا میں بنیادی ڈھانچے کی تقسیم 10سال میں مکمل ہوگی جس کیلئے وفاقی حکومت اربوں روپے خرچ کرے گی، ایف اے ٹی ایف کے تحت بھی پاکستان کی بہت سے اقدامات کرنے ہیں جس کے حوالے سے ہم نے کابینہ اجلاس میں پالیسی فیصلے کیے ہیں،،فاٹا اور ایف اے ٹی ایف کے معاملات فوری نوعات کے تھے جس کیلئیکابینہ نیہنگامی بنیادوں پر اقدامات کییِ۔

بدھ کو نگران وفاقی وزیر اطلاعات سید علی ظفر نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس کی۔

(جاری ہے)

ان کے ہمراہ سینیٹر شیخ عتیق، سینیٹر عطا محمد، سینیٹر خانزادہ خان، سینیٹر انوار لال ڈین، اور دیگر ایکان نے شرکت کی۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وفاقی وزیر اطلاعات سید علی ظفر نے کہا کہ نگران وزیر اعظم جسٹس(ر) ناثر الملک کی زیر صدارت نگران وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ہے جس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

کابینہ اجلاس میں سب سے اہم فیصلہ فاٹا اور پاٹا کے مستقبل کے حوالے سے کیا گیا ہے۔۔فاٹا انضمام کے بعد انتظامی امور کے حوالے سے مسائل سامنے آئے تھے۔ فاٹا انضمام کے بعد فاٹا کے عوام کو پاکستان کے دیگر شہریوں کی طرح تمام بنیادی حقوق حاصل ہو گئے ہیں اور تمام قوانین پاٹا میں بھی لاگو ہوں گے۔گزشتہ کابینہ اجلاس میں فاٹا میں ٹیکس قوانین کے نفاذ کے حوالے سے کمیٹی قائم کی گئی تھی ۔

کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ فاٹا میں انضمام سے پہلے ٹیکس کی شرح برقرار رکھی جائے گی ۔ فاٹا میں انضمام کے بعد سے کوئی بھی نیا ٹیکس لاگو نہیں کیا جائے گا جبکہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر بھی 5سال کیلئے ٹیکس میں چھوٹ ہوگی۔۔فاٹا میں بجلی کے اعپر بھی کائی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا اور نہ ہی انکم ٹیکس لگایا جائے گا۔۔فاٹا میں ٹیکس قوانین سے متعلق کابینہ فیصلے کے بعد باقی کام صوبہ کرے گا۔

فاٹا میں بنیادی ڈھانچے کی تقسیم 10سال میں مکمل ہوگی جس کیلئے وفاقی حکومت اپنے وعدے کے مطابق اربوں روپے خرچ کرے گی۔۔فاٹا کیلئے کیے گئے تمام وعدوں کو وفاق پورا کرے گا۔ عالمی ڈونرز نی بھی فاٹا کی ترقی میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی ہے لیکن ہماری اولین ترجیح ہے کہ وسائل کو فاٹا کی ترقی کیلئے استعمال کریں۔ ایف اے ٹی ایف کے تحت بھی پاکستان کی بہت سے اقدامات کرنے ہیں جس کے حوالے سے ہم نے کابینہ اجلاس میں پالیسی فیصلے کیے ہیں۔

نواز شریف کا ٹرائل آئین کے آرٹیکل 10اے کی روشنی میں عدالت کے اندر ہوگا اور ان کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔۔الیکشن کا نتیجہ ووٹر کے ہاتھہ میں ہوتا ہے اور ووٹر ہی اس حوالے سے فیصلہ کرتا ہے۔وزارت اطلاعات نے انتخابی عمل کے حوالے سے عوامی آگاہی مہم شروع کر رکھی ہے اور ہم سرکاری ٹی وی پر تمام سیاسی جماعتوں کو برابر وقت دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

اڈیالہ جیل وفاقی نہیں بلکہ صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے اور قانون کے مطابو نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کو جیل کے اندر تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جن کی قانون اجازت دیتا ہے۔۔نگران حکومت کا کام ملک کے اندر شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا ہے ہم کوئی ایسا فیصلہ نہیں کر سکتے جو آنے والی حکومت کو پابند کر دے۔ لیکن فوری نوعیت کے معاملات دیکھنا ہمارے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ فاٹا کا اور ایف اے ٹی ایف کے معاملات فوری نوعات کے تھے جس کیلئے ہم نے اقدامات کیے آنے والی حکومت ہمارے اقدامات کو بدل بھی سکتی ہے۔