عمران خان کی غلط فہمی ہے کہ وہ سازشیں کرکے وزیراعظم بن سکتے ہیں ،ْبلاول بھٹو زر داری

اگر عمران اتنے ہی مقبول ہوتے تو اتنی سہولتیں دینے کی کیا ضرورت ہی کٹھ پتلی اتحاد بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، جیالے لڑنے کیلئے پرجوش ہیں ،ْپہلے بھی مشکل وقت کا سامنا کرچکے ہیں ،ْ اب بھی مشکلات کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں ، کالعدم تنظیموں کا الیکشن لڑنا جمہوریت کی توہین ہے ،(ن) لیگ اور پی ٹی آئی آمر کی پیداوار ہیں ،معاشی اور سیاسی پالیسی ایک ہے ،جلسے سے خطاب /میڈیا سے بات چیت

بدھ جولائی 18:42

عمران خان کی غلط فہمی ہے کہ وہ سازشیں کرکے وزیراعظم بن سکتے ہیں ،ْبلاول ..
لالہ موسیٰ/ منڈی بہائو الدین (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جولائی2018ء) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ عمران خان کی غلط فہمی ہے کہ وہ سازشیں کر کے وزیراعظم بن سکتے ہیں ،ْاگر وہ اتنے ہی مقبول ہوتے تو انہیں اتنی سہولتیں دینے کی کیا ضرورت ہے ،ْکٹھ پتلی اتحاد بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، جیالے لڑنے کیلئے پرجوش ہیں ،ْپہلے بھی مشکل وقت کا سامنا کرچکے ہیں ،ْ اب بھی مشکلات کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں ،کالعدم تنظیموں کا الیکشن لڑنا جمہوریت کی توہین ہے ۔

(ن) لیگ اور پی ٹی آئی آمر کی پیداوار ہیں ،معاشی اور سیاسی پالیسی ایک ہے ۔ بدھ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گالم گلوچ اور نفرت کی سیاست کر کے شاید قلیل مدت فائدہ اٹھالیا جائے اور یہ لاڈلے کی پرانی عادت ہے تاہم اس عمل سے قوم کو طویل مدت نقصان پہنچے گا۔

(جاری ہے)

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کٹھ پتلی اتحاد بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، خان صاحب کی غلط فہمی ہے کہ سازشیں کر کے وہ وزیراعظم بن سکتے ہیں، اگر وہ اتنے ہی مقبول ہوتے اور عوام ان کے ساتھ ہوتے تو انہیں اتنی سہولتیں دینے کی کیا ضرورت ہے۔

انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی ہو یا جی ڈی اے وہ آزادانہ انتخابات میں مقابلہ نہیں کرسکتے، جو بھی سازشیں ہورہی ہیں ایک دن ان کے ثبوت سامنے لائینگے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جیالے لڑنے کے لیے پرجوش ہیں، وہ پہلے بھی مشکل وقت کا سامنا کرچکے ہیں اور اب بھی مشکلات کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام دوست پالیسیز کو ملکی سیاست پر ترجیح دوں گا ،ْپہلے بھی کہا کہ کالعدم تنظیموں کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، ان پر بار بار اعتراض کیا اور الیکشن کمیشن کو بھی شکایت کی، کالعدم تنظیموں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کی مذمت کرتا ہوں۔

انہوںنے کہاکہ پنجاب کی سیاست میں نظریاتی بحران ہے اس کیلئے پیپلز پارٹی لڑے گی، پی ٹی آئی اور نواز شریف پارٹی کا منشور ایک جیسا ہی ہے، ہماراسفرصرف الیکشن تک محدود نہیں ہے، اس لئے پیپلز پارٹی کا منشور باقی تمام جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم بے نظیر بھٹو کے فلسفے پر چلتے ہوئے مثبت سیاست کرینگے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ لاڈلے کی سیاست سے مستقبل میں ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے، عمران خان شفاف الیکشن سے ڈرتے ہیں۔

بعد ازاں منڈی بہائو الدین میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کسان دوست پالیسی بنائی ہے ۔ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو غربت کامقابلہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھوک مٹائو پالیسی کے تحت لوگوں کو آسان قرضے دینگے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں کارکنان نے جمہوریت کیلئے لازوال قربانیاں دیں ۔

انہوں نے کہا کہ شاہنواز بھٹو ضیاء الحق کی آمریت سے لڑتے ہوئے شہید کردیئے گئے۔ شہید شاہنواز بھٹو کی جدوجہد اور قربانی صدیوں یاد رکھی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو انقلابی منشور لیکر آئے تھے ، ہم ایک اور انقلابی منشور لائے ہیں جو آپ کے مسائل کا حل نکال سکے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائزہ وسیع کرینگے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پورے ملک میں پھیلائینگے۔ یونین کونسل کی سطح پر فوڈ سٹور کھولینگے جو خواتین چلائینگی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا منشور ہمیشہ کسان دوست رہاہے۔ کسان کارڈ کے تحت فصلوں کی انشورنس کی جائیگی۔ فصلوں کی نقصان کی صورت میں حکومت کسانوں کی مدد کرسکے گی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ چاول ، مکی دال ، گندم کی فصل کو بھی سپورٹ پرائس دی جائیگی۔

انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو نے پانچ مرلہ سکیم کے تحت بے گھر افراد کو مکانات دیئے تھے ۔ ہم بھی گھر پروگرام کے تحت نوجوانوں کو گھر کیلئے مدد دینگے۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ (ن) لیگ ہو یا پی ٹی آئی ان کی معاشی اور سیاسی پالیسی ایک ہے ، (ن) لیگ اور پی ٹی آئی آمر کی پیداوار ہیں ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ بینظیر شہید کی نامکمل مشن پورا کرنے کیلئے نکلا ہوں ۔

ہمیں مرکز کی سطح پر اصولوں کی سیاست واپس لانا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ جدوجہد کیلئے عوام کی مدد اور ووٹ ضروری ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پنجاب میں ایک سیاسی بحران پیدا ہوچکا ہے اور پیپلز پارٹی ملک کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی بی غربت اور بیروزگاری کیخلاف جدوجہد کررہی تھیں،بینظیر نے کہا تھا روزگار دینا جرم ہے تو وہ یہ جرم بار بار کرتی رہیں گی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اقتدار ملا تو خواتین کو بلا سود قرضے دینگے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے پرویز خٹک اور عمران خان کا نام لئے بغیر کہا کہ گالی دینا مجھے بھی آتا ہے مگر کارکنوں کو گالم گلوچ نہیں سکھانا چاہتا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کا الیکشن لڑنا جمہوریت کی توہین ہے ۔