پشاور، غلام اسحاق خان انسٹیٹوٹ ملک کا عظیم اثاثہ ہے،جسٹس (ر) دوست محمد خان

جسکی خدمات قابل قدر ہیں۔ انہوں نے غریب طلباء کی معاونت کیلئے انڈومنٹ فنڈ کے قیام کی تجویز سے اتفاق کیا ہے جبکہ انسٹیٹوٹ کے تحت اعلیٰ درجے کی ٹریننگ اکیڈمی کی ضرورت پر زور د یا ،نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا

بدھ جولائی 22:22

پشاور، غلام اسحاق خان انسٹیٹوٹ ملک کا عظیم اثاثہ ہے،جسٹس (ر) دوست محمد ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جولائی2018ء) نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان نے کہا ہے کہ غلام اسحاق خان انسٹیٹوٹ ملک کا عظیم اثاثہ ہے جسکی خدمات قابل قدر ہیں۔ انہوں نے غریب طلباء کی معاونت کیلئے انڈومنٹ فنڈ کے قیام کی تجویز سے اتفاق کیا ہے جبکہ انسٹیٹوٹ کے تحت اعلیٰ درجے کی ٹریننگ اکیڈمی کی ضرورت پر زور د یتے ہوئے کہا کہ ترقیافتہ دنیا کے مقابلے میں جانے کیلئے معیاری تعلیم و تحقیق اور جدید تقاضوں کے مطابق تربیت ناگزیر ہے۔

وہ وزیر اعلیٰ سیکڑٹریٹ پشاور میں غلام اسحاق خان انسٹٹیوٹ کے بورڈ آف گورنزر کے صدر شمس الملک اور ایگزیکٹیو ڈائریکٹر شکیل درانی سے گفتگو کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری اکبر خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔

(جاری ہے)

شمس الملک نے نگران وزیر اعلیٰ کو ادارے کی کارکردگی سے آگاہ کیا اور صوبے میں معیاری تعلیم و تحقیق کے فروغ کیلئے تجاویز پیش کیں۔

انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا سے 35طلباء و طالبات میرٹ پر لئے گئے ہیں،تاہم کئی طلباء و طالبات جو میرٹ پر نہیں آتے مگر اچھی تعلیمی قابلیت اور ذہنیت رکھتے ہیں جنکو مالی معاونت کی ضرورت ہو تی ہے ، ادارہ مالی طور پر کمزور مگر ذہین طلباء کی معاونت کی کوشش کرتا ہے مگر اس سلسلے میں مستقل انتظام کی ضرورت ہے۔ شمس الملک نے غریب طلباء کیلئے انڈومنٹ فنڈ کے قیام کی تجویز دی جس سے نگران وزیر اعلیٰ نے اصولی اتفاق کیا اور عندیہ دیا کہ وہ اسکے لئے خاطر خواہ رقم کا انتظام کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہریوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے مگر بد قسمتی سے یہ شعبہ نظر انداز کیا گیا جسکے نتائج ہم بھگت رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ریونیو کلیکشن کا نظام کمزور اور اخراجات بے دریغ ہونے کی وجہ سے آمدن اور اخراجات میں توازن نہیں ہے جو سماجی خدمات کے شعبوں کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ ہے دوست محمد خان نے کہا کہ سکولوں میں بچوں کی بنیادی سہولیات کا نہ ہونا بحیثیت مجموعی ہمارے اخلاص کی عکاسی کرتا ہے تاہم سکولوں کی خراب حالت کے باوجود اگر کوئی بچہ میرٹ پر آتا ہے تو وہ کوئلے کی کان میں ہیرے کی مانند ہے، ہمارے پاس بہترین ذہنیت کے مالک بچے موجود ہیں مگر انہیں سہولیات میسر نہیں ہیں۔

جسٹس (ر) دوست محمد خان نے کہا کہ ہمارے پاس بے شمار قدرتی وسائل ہیں جن کو مالی بنیاد مضبوط کرنے کیلئے استعمال کیا جانا چاہئے تھا، انہوں نے کہا کہ وسائل کو استعمال میں لانے کا طریقہ اور سوچ ہو تو تمام مسائل ختم ہو سکتے ہیں ، نگران وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو غلام اسحاق خان انسٹٹیوٹ کے نئے اکیڈمک بلاک کیلئے مختص 200ملین روپے کی فراہمی کا مسئلہ جلد حل کرنے کی ہدایت بھی کی۔