ملک میں کچھ سیاسی قوتیں الیکشن کو سبوتاژ کرنے کے حوالے سے کوششیں کر رہے ہیں،بابر اعوان

ہم میثاق جمہوریت کو مذاق جمہوریت بنانے کے حوالے سے مذمت کرتے ہیں،گفتگو

جمعرات جولائی 19:48

ملک میں کچھ سیاسی قوتیں الیکشن کو سبوتاژ کرنے کے حوالے سے کوششیں کر ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جولائی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور آئینی ماہر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ ملک میں کچھ سیاسی قوتیں الیکشن کو سبوتاژ کرنے کے حوالے سے کوششیں کر رہے ہیں لیکن آئینی وقانونی اداروں نے ان کے ہر قسم کے پیچیدہ سوال کو آسان بنا کر جواب دیا ہے۔۔قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اپنی الیکشن مہم میں جو زبان استعمال کر رہے ہیں کیا عام شہری اس زبان کو پھول جھڑنے والی یا پاکیزہ زبان قرار دے سکتا ہے،ان سے متعلق تو کوئی سوال نہیں کیا جاتا۔

ہم میثاق جمہوریت کو مذاق جمہوریت بنانے کے حوالے سے مذمت کرتے ہیں۔۔پی ٹی آئی کا میثاق عوام کے ساتھ ہے اور عوام کا میثاق پی ٹی آئی کے ساتھ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز الیکشن کمیشن کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی انتخابی مہم چلائیں اور جو ہمارے تحفظات ہیں وہ ہم نے کمیشن کے سامنے پیش کردئیے ہیں۔

سابقہ ایجنڈا ہے کہ الیکشن سبوتاژ کیا جائے،شہبازشریف کو پنجاب سے این آر او نہیں ملے گا،ہمیں جس ادارے نے بلایا اور ہم نے خوش آمدید کہا،،لاہور میں تاریخ دہرائی گئی،جب بھائی بھائی کا وفادار نہیں تو قوم کا وفادار کیسے ہوگا۔جو کہہ رہے ہیں کہ ملک میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہیں چل سکتی اور وہ یہی الفاظکل تلک شوکت خانم ہسپتال سے متعلق بھی کہا کرتے تھے۔

بابر اعوان نے کہا کہ نوازشریف،،،مریم نواز،،،کیپٹن صفدر کو جیل میں سہولیات دی گئی ہیں وہ تمام تر قیدیوں کو دی جانی چاہئیں۔سہالہ میں ریسٹ ہاؤس منتقل کرنے کی باتیں عام قیدیوں کے ساتھ مذاق ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں بابر اعوان نے کہا کہ یہ بات اٹل ہے کہ عام انتخابات کے بعد حکومت بنانے کیلئے پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی سے کوئی اتحاد نہیں ہوگا۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ نوازشریف اور شہبازشریف کو اپنے حالات زندگی کا پتہ تھا،اگر وہ ملک اور قوم کے ساتھ مخلص ہوتے تو اپنے دور حکومت میں جیل کا چکر ضرور لگاتے تاکہ عام قیدیوں کے ساتھ روا رکھا گیا رویہ آج ان کے کام آتا۔جیلوں میں اکثر قیدی بے گناہ ہیں جو شہبازشریف نے کسی نہ کسی مقدمہ میں انہیں ڈالا ہوا ہے اور میری اپیل ہے کہ شریف خاندان کی اپیلوں سے متعلق پہلے سے موجود قیدیوں کی اپیلوں پر فیصلے ہونے چاہئیں تاکہ قانون کی حکمرانی قائم ہوسکی۔