اگر الیکشن متنازعہ ہوئے تو فیڈریشن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے اور قومی یکجہتی پارہ پارہ ہونے کا خطرہ ہے ‘سراج الحق

ایم ایم اے اقتدار میں آکر سودی نظام ختم کرکے اسلام کا معاشی نظام دے گی تاکہ عوام کو غربت، مہنگائی اور ظالمانہ ٹیکسوں سے نجات مل سکے مغرب اور امریکہ سیکولر پارٹیوں کی سرپرستی کررہے ہیں تاکہ پاکستان کو اسلام سے دور رکھا جاسکے ‘ چکدرہ اور تالاش میں انتخابی جلسوں سے خطاب

جمعہ جولائی 18:58

اگر الیکشن متنازعہ ہوئے تو فیڈریشن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے اور ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جولائی2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ نگران حکومت الیکشن کمیشن اور دیگر ادارے الیکشن پر اٹھنے والے سوالات پر عوام کو اعتماد میں لیں ،،الیکشن کو غیر جانبدار اور شفاف بنانا حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اگر الیکشن متنازعہ ہوئے تو فیڈریشن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے اور قومی یکجہتی پارہ پارہ ہونے کا خطرہ ہے ،اگر ملک میں اسلامی نظام ہوتا تو کسی آمر اور ڈکٹیٹر کو جمہوریت اور آئین سے کھیلنے کی کبھی جرأت نہ ہوتی ، آج تک ملک میں جمہوریت کے نام پر شخصی آمریتیں قائم رہیں ، 70سال میں ملک میں جمہوریت کو پنپنے کا موقع نہیں مل سکا،ایم ایم اے ملک میں اسلامی انقلاب کی جدوجہد کررہی ہے تاکہ ہر خاص و عام کو یکساں حقوق مل سکیں اور کسی کو عام آدمی کے استحصال کی جرأت نہ ہو ،ایم ایم اے اقتدار میں آکر سودی نظام ختم کرکے اسلام کا معاشی نظام دے گی تاکہ عوام کو غربت، مہنگائی ،بے روز گاری اور ظالمانہ ٹیکسوں سے نجات مل سکے،مغرب اور امریکہ سیکولر پارٹیوں کی سرپرستی کررہے ہیں تاکہ پاکستان کو اسلام سے دور رکھا جاسکے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہا رانہوں نے چکدرہ اور تالاش میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اسلامی نظام میں آمریت اور ڈکٹیٹر شپ کا کوئی خطرہ نہیں ،اسلام ظلم و جبر کے خلاف ہے اور کسی فردکے استحصال کی اجازت نہیں دیتا ۔70سال سے عوام کی گردنوں پر سوار اشرافیہ نے عام آدمی کو اس کے حقوق سے محروم کررکھا ہے ۔ لینڈ مافیا ،شوگر مافیا اور ڈرگ مافیا کی حکمرانی میں عوام کو عزت و احترم اور ملک کو ترقی و خوشحالی نہیں مل سکتی ۔

عوام اپنی آنے والی نسلوں کو غربت ، جہالت اور پریشانیوں سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں متحدہ مجلس عمل کا انتخاب کرنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ایم ایم اے حقیقی متبادل قوت ہے اور پاکستان کے عوام ایم ایم اے کے ساتھ ہیں جس کا مظاہرہ پوری قوم 25جولائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گی ۔انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل پاکستان کو اس کے قیام کے مقصد سے ہم آہنگ کرنے کی جدوجہد کررہی ہے ہم ان شا ء اللہ 2018کے انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کرکے ملک میں نظام مصطفی ؐ کا نفاذ کریں گے تاکہ جس عظیم مقصد کیلئے ہمارے بڑوں نے بے مثال قربانیاں پیش کرکے پاکستان حاصل کیا تھاوہ مقصد حاصل کیا جاسکے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ شفاف الیکشن کے حوالے سے شکوک و شبہات کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔ملک میں انتشاراور خونی انقلاب کا راستہ روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انتخابات پر عوام کے اعتماد کو بحال کیا جائے ۔جب بیلٹ بکس پر اعتماد ختم ہوتا ہے تو پھر افراتفری اور انارکی پھیلتی ہے ،انہوں نے کہا کہ ماضی میں الیکشن کے بعد دھاندلی کا شور مچتا تھااور موجودہ انتخابات میں الیکشن سے پہلے ہی یہ شور مچ گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورت حال رہی تو انتخابی نتائج کو کوئی قبول نہیں کرے گا ،یہ تاثر ختم ہونا چاہئے کہ حکومت کسی جماعت کی سرپرستی کررہی ہے ۔