میرا مقابلہ نوازشریف مافیااورانٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ سے ہے،عمران خان

اڈیالہ بڑےبڑے مگرمچھوں کاانتظارکررہی ہے،شہبازشریف کے منہ پرخوف طاری ہے،بلاول کہتا نیا سوشل کنٹریکٹ ہونا چاہیے،بلاول بیٹا!10سال پہلےمیثاق جمہوریت کرکے مک مکا کیا،10سال پہلے ڈالر60اورآج 130کا ہے،اقتدار میں آکرسب بلاتفریق احتساب کریں گے۔کرک میں عوامی جلسہ سے خطاب

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ جولائی 17:40

میرا مقابلہ نوازشریف مافیااورانٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ سے ہے،عمران خان
کرک(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔21 جولائی 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ میرا مقابلہ نوازشریف جیسے مافیا اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ سے ہے،اڈیالہ بڑے بڑے مگرمچھوں کاانتظار کررہی ہے،شہبازشریف کے منہ پرخوف طاری ہے،بلاول کہتا نیا سوشل کنٹریکٹ ہونا چاہیے،بلاول بیٹا! 10سال پہلے میثاق جمہوریت کرکے مک مکا کیا،10سال پہلے ڈالر 60اور آج 130کا ہے،اقتدار میں آکرسب بلاتفریق احتساب کریں گے۔

انہوں نے آج کرک میں عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دھاندلی کارونا رو رہے ہیں۔یہ سب اکٹھے ہوگئے ہیں۔مجھے بڑا مزاآرہا ہے۔ابھی سے شروع ہوگئے ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہورہی ہے۔ شہبازشریف کومیں خواب میں بھی نظر آتا ہو ں ۔مجھے اس کے چہرے پرخوف نظر آرہا ہے۔

(جاری ہے)

شہبازشریف تمہیں ڈرنا بھی چاہیے کیونکہ تم جوبھائی کے ساتھ کیا وہ دشمن بھی نہ کرتا۔

شہبازشریف نے کہاکہ بھائی جان واپس آجاؤ سڑکوں کاعوام پرسمندر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں سب کا بلاتفریق احتساب کیا جائے گا۔اڈیالہ بڑے بڑے مگرمچھوں کاانتظار کررہی ہے۔شہبازشریف کے منہ پرخوف طاری ہے۔عمران خان نے کہا کہ جوبھائی سے وفاداری نہ کرے وہ پاکستان سے وفاداری کیسے کرسکتا ہے۔ کرک والو، اب نئے ڈرامے کیلئے تیار ہوجاؤ۔

نوازشریف نے کہا کہ میرا مقابلہ خلائی مخلوق سے ہے لیکن نوازشریف میرا مقابلہ تم جیسوں مافیا اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ سے ہے۔ہندوستان کے اخبار بھی تمہارے پیچھے کھڑے ہو۔ ہندوستان میں ایسا ہوتا تووہ ایک گھنٹہ بھی اپنے وزیراعظم کواقتدار میں نہ رہنے دیتے۔نوازشریف کے ساتھ لندن میں بیٹھا ہوا وہ اس کے ساتھ ہے، آصف زرداری اس کے ساتھ ہے۔

عمران خان نے کہا کہ بلاول کہتا ہے نیا سوشل کنٹریکٹ ہونا چاہیے۔بلاول بیٹا! تم نے 10سال پہلے بھی میثاق جمہوریت کیا تھا۔ دونوں نے ملکر دستخط کیے کہ ہم ملکر جمہوریت چلائیں گے۔10سال پہلے ڈالر 60اور آج 130روپے کا ڈالر ہے۔ میثاق جمہوریت کا نتیجہ یہ ہے کہ بینک میں 100روپیہ آج صرف 50روپے رہ گئے ہیں۔ان کے پیسے باہر پڑ ے ہیں یہ امیر اور قوم مقروض ہوگئی ہے۔10سال پہلے 6ہزار اور آج 28ہزار قرض ہے۔