انتخابات میں ممکنہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کے حوالے سے (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی میں بیک ڈور رابطے

پیپلز پارٹی اور نواز لیگ مشترکہ احتجاجی تحریک چلانے پر متفق ہوگئے تو دیگر کو بھی شامل کیا جائیگا،فریال تالپور اور رحمن ملک سرگرم ہوگئے،ذرائع

ہفتہ جولائی 17:57

انتخابات میں ممکنہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کے حوالے سے (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جولائی2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے درمیان انتخابات میں ممکنہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کے حوالے سے رابطوں کا آغاز ہوگیا ہے ۔پیپلزپارٹی کی رہنما فریال تالپور اور رحمن ملک الیکشن نتائج کے فوری بعد احتجاجی تحریک شروع کرنے کی تجویز پر مسلم لیگ (ن) کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق نواز لیگ اور پیپلز پارٹی رہنماؤں کے بیک ڈور چینل رابطے ہوئے ہیں ۔۔پیپلز پارٹی کی جانب سے رحمان ملک اور فریال تالپور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطے کررہے ہیں اور ممکنہ انجینئرڈ الیکشن نتائج کے خلاف مشترکہ جدوجہد شروع کرنے پر بات چیت جاری ہے ۔ دونوں جماعتوں کے رہنما پر ی پول رگنگ کے الزامات عائد کرچکے ہیں جبکہ ملک کی کئی مذہبی وسیاسی جماعتیں بھی حالیہ انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہیں۔

(جاری ہے)

ذرائع نے بتایا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان الیکشن سے قبل یا نتائج کے فوری بعد تحریک شروع کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔۔پیپلز پارٹی اور نواز لیگ مشترکہ احتجاجی تحریک چلانے پر متفق ہوگئے تو دیگر کو بھی شامل کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی پی اور نواز لیگ کی حکمت عملی کامیاب ہوئی تو نگراں حکومت کی مشکلات بڑھ سکتی ہیںاوراس مہم کے ڈریعے الیکشن کمیشن پر بھی دباو بڑھ سکتا ہے۔