پیپلزپارٹی کو ختم کرنے کی سوچ رکھنے والی قوتوں کو پیغام ہے یہ میرا پہلا الیکشن ہے ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ،بلاول بھٹو زرداری

سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف کٹھ پتلی اتحاد پہلے بھی بنتے رہے عوام ایسے سازشی عناصر کو جانتے ہیں اور شکست دینگے ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں اپنے نظریات کا دفاع کریں گے، عوامی اجتماع سے خطاب

ہفتہ جولائی 21:58

پیپلزپارٹی کو ختم کرنے کی سوچ رکھنے والی قوتوں کو پیغام ہے یہ میرا پہلا ..
ننگر ہارکر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جولائی2018ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو شہید کرکے پیپلزپارٹی کو ختم کرنے کی سوچ رکھنے والی ان قوتوں کو پیغام ہے کہ یہ میرا پہلا الیکشن ہے ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف کٹھ پتلی اتحاد پہلے بھی بنتے رہے عوام ایسے سازشی عناصر کو جانتے ہیں اور شکست دینگے ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں اپنے نظریات کا دفاع کریں گے۔

(جاری ہے)

ننگرہارکر میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زردری نے کہا کہ تھرپارکر کے عوام بے نظیر بھٹو سے پیار کرتے تھے میں آپ کا بیٹا اور بھائی ہوں اور پہلی مرتبہ عوام کے پاس آیا ہوں میں کراچی سے خیبر تک گیا ہوں میں عوام کی خدمت اور ان کے مسائل حل کرنے کیلئے ایا ہوں میر اہر شہر میں جتنا بڑا استقبال ہوا اور جس محبت اور جوش سے بی بی اور بھٹو کے چاہنے والوں نے استقبال کیا وہ کبھی نہیں بھول سکتا انہوں نے کہا کہ جو قوتیں بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو شہید کرکے پیلزپارٹی کو ختم کرنے کی خواہاں تھیں انہیں یہ پیغام ہے کہ میں ابھی آیا ہوں یہ میری پہلی انتخابی مہم ہے ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ مجھے اقتدار کی ہوس نہیں میں اپنے لئے نہیں عوام کیلئے اقتدار چاہت اہوں پیپلزپارٹی کی جدوجہد کسی سیاسی جماعت ‘ کسی سیاستدان کے خلاف نہیں پیپلزپارٹی کی جدوجہد عوام کی محرومیوں‘ ظلم ‘ ناانصافی ‘ جہالت اور غربت کے خلاف ہے انہوں نے کہاکہ آج سوات میں پاکستان کا جھنڈا پیپلزپارٹی کی وجہ سے ہے بھٹو نے تھرکی سرزمین بھارت سے واپس لی تھی محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1996 ء میں تھرکول کا خواب دیکھا تھا وہ سمجھتی تھیں تھرپاکستان کی تقدیر بدل سکتا ہے مجھے خوشی ہے کہ شہید محترمہ نے جو خواب دیکھا تھا آج تھر سے کوئلہ نکل رہا ہے ہم لک کو بجلی بھی دین گے اور پاکستانیوں کو یہاں روزگار بھی ملے گا انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے 2 وزراء اعلیٰ نے جتنے کام کئے سندھ کی تاریخ میں کسی نے نہیں کئے یہ مانتا ہوں کہ ابھی بہت کام باقی ہیں اور وہ بھی صرف پیپلزپارٹی ہی کر سکتی ہے انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نظریاتی جماعت ہے ہم گالم گلوچ اور نفرت کی سیاست نہیں کرتے ہیں ملک بھر میں جاکر اپنا عوام منشور پیشکررہا ہوں پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ غربت کا مقابلہ کرتی ہے دنیا مانتی ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے غربت کا مقابلہ کیا گیا ہم بھوک مٹائو پروگرام بنائیں گے اور پورے ملک میں پھیلائیں گے ہم غریب عورتوں کو بلا سود قرضے دیں گے جو ہماری معیشت میں کردار ادا کر سکتی ہے پاکستان کی 60 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے ہم فوڈ کارڈ دیں گے اور ہر یونین کونسل میں فوڈ سٹور کھولیں گے جو پاکستان کی خواتین چلائیں گی ہم نہ صرف بھوک بلکہ بے روزگاری کا مقابلہ کریں گے اور مائوں بہنوں کا خیال بھی کریں گے انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے خلاف کٹھ پتلی اتحاد پہلے بھی بنتے رہے عوام پہلے بھی ایسے عناصر کو شکست دیتے رہے اور امید کرتا ہوں کہ اب بھی دیں گے انہوں نے کہا کہ پنجاب سے ایک کھلاڑی کو امپورٹ کرکے یہ سمھجتے ہیں کہ تبدیلی لے کر آئیں گے سندھ کے عوام ان سازشوں کو سمجھتے ہیں یہ منافقت اور یوٹرن کی سیاست ہے ایک طرف کرپشن کی بات ہورہی ہے دوسری طرف کرپشن پر نکالے گئے وزیر کے ساتھ بیٹھا ہے یہ ایک طرف اقلیتوں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کی مخالفت کی ضمانت کرتے ہیں یہ ایک طرف امن کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں ایک طرف سندھ جوڑنے کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف ان قوتوں سے ملتے ہیں جو سندھ توڑنے کی بات کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ پانی کی تقسیم بڑا مسئلہ ہے جو افہام و تفہیم کے بغیر حل نہیں ہوسکتا ان کا منصوبہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کے خلاف سازش ہے ہم ان کی سیاست ختم کردیں گے مگر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم نہیں کرنے دیں گے ہم آئین کو ختم نہیں کرنے دیں گے انہوں نے کہا کہ اگر وہ سندھ میں اتنا پاپولر تھے تو انہیں سندھ میں کسی اتحاد کی کیوں ضرورت پیش آئی انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں اور جمہوریت کا دفاع کریں ے جیالے ضیاء اور بھٹو کی آمریت کوڑوں کی سزائوں سے نہیں ڈرتے تو دھمکیوں سے کیا ڈریں گے ہم پاکستان پیپلزپارٹی ‘ بھٹو اور بین ظیر کے نظریات کا دفاع کریں گے اور اس پر کمپرومائز نہیں کریں گے۔