سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹ جاری کردی گئے

وزارت دا خلہ کی منظوری اور سیکرٹری داخلہ کی ہدایت کے بعد ایف آئی اے نے انٹرپول کو اسحاق ڈار کی گرفتاری کیلئے خط لکھ دیا

muhammad ali محمد علی ہفتہ جولائی 22:39

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹ جاری کردی گئے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جولائی2018ء) سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹ جاری کردی گئے، وزارت دا خلہ کی منظوری اور سیکرٹری داخلہ کی ہدایت کے بعد ایف آئی اے نے انٹرپول کو اسحاق ڈار کی گرفتاری کیلئے خط لکھ دیا۔ تفصیلات کے مطابق وزارت دا خلہ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی منظوری دے دی۔

سیکرٹری داخلہ کی ہدایت کے بعد ایف آئی اے نے انٹرپول کو خط لکھ دیا۔ اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ اجراء کی منظوری وزارت داخلہ نے نیب کی درخواست پر دی جس کے بعد ایف آئی اے نے انٹرپول کو خط لکھا۔ خط میں کہا گیا کہ انٹرپول اسحاق ڈار کی برطانیہ سے گرفتاری میں مدد کرے اس سے پہلے 14 جولائی کو اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کیلئے انٹرپول کو درخواست کیساتھ سابق وزیرخزانہ کی جائیداد ضبطگی کی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

ریڈ وارنٹ کب جاری کئے جائیں گے اس کا حتمی فیصلہ انٹرپول نے کرنا ہے، عدالت نے ہدایت کی تھی کہ وزارت داخلہ اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ اجراء کے معاملے کی پیروی کرتی رہے۔ واضح رہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نیب کیسز کے سلسلے میں عدالت اور نیب میں پیش نہ ہونے کے باعث مفرور قرار دے دیا گیا تھا۔ اسحاق ڈار گزشتہ ایک برس سے بیرون ملک مقیم ہیں۔

اسحاق ڈار کا دعویٰ ہے کہ وہ خرابی صحت کی وجہ سے بیرون ملک مقیم ہیں۔ جبکہ نیب کا دعویٰ ہے کہ اسحاق ڈار کیسز سے بچنے  کیلئے پاکستان واپس نہیں آ رہے۔ اس تمام صورتحال میں نیب نے وزارت داخلہ سے اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ وزارت داخلہ نے اب نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔ اسحاق ڈار کی گرفتاری کیلئے جاری کیے گئے ریڈ وارنٹ انٹرپول کو بھی فراہم کر دیے گئے ہیں۔ جبکہ اسحاق ڈار کی گرفتاری کیلئے کاروائی دبئی یا لندن میں عمل میں آنے کا امکان ہے۔ اسحاق ڈار کی گرفتاری کیلئے جاری کیے گئے ریڈ وارنٹ دبئی اور لندن دونوں شہروں میں موجود انٹرپول کے دفاتر کو بھیجے گئے ہیں۔