پاراچنار، پیپلزپارٹی کا این اے 45 کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے عدالت جانیکا فیصلہ

جمعرات جولائی 19:32

پاراچنار(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 26 جولائی2018ء) پاکستان پیپلزپارٹی نے حلقہ این اے 45 کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ لوئر اور وسطی کرم میں نہ صرف ان کے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنز میں داخلے سے روکا گیا بلکہ ان کے پولنگ ایجنٹس کو بھی اسٹیشنوں سے نکالا گیا پاراچنار میںحلقہ این اے 45 ضلع کرم سے پی پی پی کے امیدوار ڈاکٹر عارف حسین نے مسوزئی، علیشرزئی چمکنی اور طوری بنگش قبائل کے عمائدین اور پی پی پی کے کارکنوں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی صورت بھی حلقے کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ انہیں ہرانے کے لئے جے یو آئی کے امیدوار نے ریکارڈ دھاندلی کی ہے پی پی پی کے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنز سے واپس کیا جاتا رہا اور میرے پولنگ ایجنٹس تک کو پولنگ اسٹیشنز میں داخل ہونے نہیں دیا گیا اس وجہ سے پی پی پی کے پچیس ہزار ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال نہ کرسکے جن میں ذیادہ تعداد خواتین کی تھی اس موقع پر پی پی پی کے رہنما غلام قندانی خان ، امتیاز حسین ،شوکت چمکنی، عنایت علیشیرزئی ، سلطان مسوزئی اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ گوندل ، سرپخ ، تختہ ، پیر قیوم اور دیگر مختلف علاقوں میں پی پی پی کے کارکنوں اور ووٹرز کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور منصوبہ بندی کے تحت انہیں ووٹ ڈالنے سے روکا گیا جس کی وجہ سے خواتین ووٹرز دن بھر پولنگ اسٹیشنز کے باہر انتظار کرتی رہی اور ووٹ ڈالے بغیر چلی گئیں جبکہ پتھراؤ اور تشدد کے باعث کئی ووٹرز زخمی بھی ہوئیں رہنماؤں نے کہا کہ اگر سلیکشن ہی کرنی تھی تو پھر الیکشن کی کیا ضرورت تھی جس میں مقامی انتظامیہ بھی ملوث ہے پی پی پی کے رہنماؤں اور عمائدین نے اعلان کیا کہ انصاف نہ ملا تو عدالت سے رجوع کریں گے ۔