انٹرنیشنل کشمیر پریس کلب کے زیر اہتمام ایک مقامی مطعم میں تقریب کا اہتمام کیا گیا

صدارت کلب کے صدر سردار محمد رزاق نے کی جبکہ نظامت کے فرائض تنظیم کے جنرل سیکریٹری وسیم ساجد نے انجام دیئے

منگل جولائی 17:07

انٹرنیشنل کشمیر پریس کلب کے زیر اہتمام ایک مقامی مطعم میں تقریب کا ..
جدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 جولائی2018ء) انٹرنیشنل کشمیر پریس کلب کے زیر اہتمام ایک مقامی مطعم میں تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ صدارت کلب کے صدر سردار محمد رزاق نے کی جبکہ نظامت کے فرائض تنظیم کے جنرل سیکریٹری وسیم ساجد نے انجام دیئے۔ مہمان خصوصی انجینیئر محبوب الرحمان جبکہ اعزازی مہمان خصوصی پاک کشمیر میڈیا فورم سعودی عرب کے صدر  حافظ عرفان کٹھانہ تھے۔

محمد عمران سلیم چشتی کی تلاوت قرآن پاک کے بعد ناظم تقریب نے اپنے ابتدائی تعارفی کلمات میں کہا کہ 19جولائی 1947ء کو غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کے زیر صدارت کشمیریوں نے متفقہ طور پر الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کی تھی اور یہ کہ اس اجتماع کا مقصد اسی عہد کی تجدید کرنا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج کشمیر کا ہر شہری پاکستان کا ہلالی پرچم لہرا رہا ہے۔

(جاری ہے)

    انٹرنیشنل کشمیر پریس کلب کے مرکزی نائب صدر اول حاجی احسان دانش نے کہا کہ ہر برس کا 19جولائی کشمیریوں کو اس دن کی یاد دلاتا ہے جب انہوں نے غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں یہ عہد کیا تھا کہ کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا کیونکہ دونوں خطہ ہائے ارض کے ثقافتی ، دینی، جغرافیائی اور معاشرتی رشتے ایک دوسرے سے تاریخی طور پر مربوط تھے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پر ہر کشمیری جان بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کریگا اور یہ کہ اگر ہند نے کشمیر کو آزادی نہ دی تو اس کے اپنے کئی ٹکڑے ہوجائیں گے۔ غلام نبی نواب نے کہا کہ آزادی ہر قوم کا پیدائشی حق ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر میں ہندوستانی   فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے ہر کشمیری کی میت پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کی جاتی ہے کیونکہ الحاق پاکستان ہر کشمیری کے دل کی آواز ہے۔

کلب کے نائب صدر جنید احمد عباسی نے کہا کہ وقت ، ہوائیں او رلہریں کسی کا انتظار نہیں کرتیں اور یہ کہ کشمیر کا وہ علاقہ جو ہند کے قبضے میں ہے آزاد کراکے پاکستان میں ضم کرنا ہے کیونکہ کشمیر پاکستان ہے۔  آج قوم کو محمد بن قاسم اور ٹیپو سلطان کی ضرورت ہے۔ محمد عمران چشتی نے واضح کیا کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا ۔ ہم کشمیریوں کو انکی الحاق پاکستان کیلئے جدوجہد میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔

اعزازی مہمان خصوصی حافظ عرفان کٹھانہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج بھی وادی کشمیر کے لوگ 7لاکھ ہندوستانی فوج  کا شجاعانہ  مقابلہ کرتے ہوئے الحاق پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں اور اب تک ایک لاکھ مجاہدین جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ انکے جذبہ اور شوق شہادت میں کمی نہیں آرہی۔ وہ دن  دور نہیں جب سارا کشمیر پاکستان بن جائیگا۔ ہم اس جدوجہد میں کشمیریوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

مہمان خصوصی انجینیئرمحبوب الرحمان نے کہا کہ آج کا دن ہند پر واضح کیا جاتا ہے کہ کشمیر نہ کبھی ہند کا حصہ تھا اور نہ رہیگا۔ کشمیری قوم ہند کیساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ کشمیریوں نے قیام پاکستان سے پہلے ہی الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کرلی تھی۔ کشمیر کی آزادی کے لئے ہند سے جنگ جاری رہیگی۔ اپنے صدارتی خطاب میں تقریب کے صدر سردار محمد رزاق خان نے کہا کہ جب پونچھ میں تحریک آزادی کا آغاز ہوا تو تمام کشمیریوں کی ہمدردیاں آزادی کیلئے جنگ کرنے والے حریت پسندو ں کیساتھ ہوگئیں۔

کشمیر میں ڈوگرہ راج کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوگیا۔ اس موقع پر کشمیریوں کی واحد نمائندہ جماعت مسلم کانفرنس 3حصو ں میں تقسیم ہوگئی۔ پہلا گروپ چوہدری حمید اللہ کے زیر نگرانی آگیا اور یہ کشمیر کی خودمختاری کا حامی تھا۔ دوسرا گروپ میر واعظ ع کی سرکردگی میں تھا تاہم اس نے حکومت کے زو ردینے پر تحریک سے منہ موڑ لیا۔ تیسرا گروپ غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی سربراہی میں مصروف عمل رہا۔

سردار ابراہیم نے اپنا گھر خالی کیا۔ جہاں  قرارداد الحاق پاکستان منظور ہوئی۔ سردار رزاق  نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کو اپنی قراردادوں پر عمل کرانا چاہئے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیکر اس 70سالہ قدیم مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شہید کشمیری کی میت پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر اسکی تدفین کرنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہر کشمیری بدن میں  پاکستانی دل دھڑک رہا ہے۔ سردار رزاق نے واضح کیاکہ الحاق پاکستاان تک کشمیر  جنگ جاری رکھے گا۔     تقریب کے دوسرے مقررین میں سردار محمد ادریس، قاسم حسین شاہ، عدنان ادریس اور سردار ابرار حسین شامل تھے۔  حافظ عرفان کٹھانہ کی دعا پر اجتماع کا اختتام ہوا۔