کراچی میں بلاول ‘فاروق ستار‘مفتاح اسماعیل‘شاہی سید‘آفاق احمد ‘شہلا رضا سمیت319امیدواروں کی ضمانتیں ضبط

علی رضا عابدی‘عبدالرﺅف صدیقی‘فوزیہ قصوری‘جواد احمدبھی ضمانتیں نہ بچاسکے‘شہبازشریف کی ضمانت ضبط ہونے سے بچ گئی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ اگست 07:17

کراچی میں بلاول ‘فاروق ستار‘مفتاح اسماعیل‘شاہی سید‘آفاق احمد ‘شہلا ..
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔03 اگست۔2018ء) عام انتخابات میں کراچی سے قومی اسمبلی کے 90 فیصد امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوئیں۔ 319 امیدواروں میں بلاول بھٹو، فاروق ستار، مصطفی کمال، شاہی سید، مفتاح اسماعیل، شہلا رضا اور آفاق احمد بھی شامل ہیں۔کراچی میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے والی کوئی جماعت ایسی نہیں جس کے ارکان کی ضمانت ضبط نہ ہوئی ہو۔

تین جماعتوں کے تمام امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں جن میں پی ایس پی، اے این پی اور ایم ایم اے شامل ہیں۔ ضمانت ضبط کروانے والوں میں علی رضا عابدی، معراج الہدیٰ صدیقی، سلیم ضیاء، عبدالرﺅف صدیقی، فوزیہ قصوری، گلوکار جواد احمد، ثروت اعجاز قادری اور ڈاکٹر صغیر احمد بھی شامل ہیں۔پہلی بار ایم کیو ایم کے 16 امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوئی۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر فاروق ستار دونوں حلقوں سے ضمانت نہیں بچاسکے۔ بلاول بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کے 17 امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوئی۔ کراچی سے صرف 27 امیدوار ضمانت بچانے میں کامیاب رہے جن میں شہباز شریف بھی شامل ہیں۔ ضمانت بچانے کے لیے کاسٹ کیے جانے والے ووٹوں کا ایک چوتھائی حاصل کرنا لازم ہے۔قومی اسمبلی کے ہر امیدوار کو زر ضمانت کے طور پر 30 ہزار روپے جمع کرانا پڑتے ہیں۔

کراچی سے قومی اسمبلی کی 21 نشستوں کے لیے 322 امیدوار میدان میں تھے۔ 295 (87 فیصد) امیدوار ضمانت ضبط ہونے سے نہ بچاسکے۔ کامیاب امیدواروں کے ووٹ بھی ضمانت ضبط ہونے سے بچنے کی حد کو عبور نہ کرسکے۔ پیپلز پارٹی کے 21 میں سے 17 امیدوار ضبط نہ بچاسکے۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے سوا پارٹی کا کوئی امیدوار ضمانت نہ بچاسکا۔عام انتخابات میں کراچی سے قومی اسمبلی کے 90 فیصد امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوئیں۔

319 امیدواروں میں بلاول بھٹو، فاروق ستار، مصطفی کمال، شاہی سید، مفتاح اسماعیل، شہلا رضا اور آفاق احمد بھی شامل ہیں۔کراچی میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے والی کوئی جماعت ایسی نہیں جس کے ارکان کی ضمانت ضبط نہ ہوئی ہو۔ تین جماعتوں کے تمام امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں جن میں پی ایس پی، اے این پی اور ایم ایم اے شامل ہیں۔