افسوس ہوتا ہے ایسی جھوٹی خبروں کو روکنے والا کوئی نہیں

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اُردو پوائنٹ کی خبر کی جانچ کیے بغیر ہی رد عمل دے دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ اگست 14:30

افسوس ہوتا ہے ایسی جھوٹی خبروں کو روکنے والا کوئی نہیں
کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 10 اگست 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف کے نو منتخب رکن اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بارے میں ایک خبر پر سخت رد عمل کا اظہار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اُردو پوائنٹ کی ایک خبر اپنے ٹویٹر پیغام میں شئیر کی اور کہا کہ افسوس ہوتا ہے کہ ایسی جھوٹی خبروں کو روکنے والا کوئی نہیں! میں عدالت میں موجود تھا اور کیس کچھ اور تھا مگر اُردو پوائنٹ کے ذمہ دار نفرت میں نہ جانے کیا کچھ لکھ رہے ہیں۔

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے بظاہر خبر پڑھے اور خبر کی جانچ کیے بغیر ہی رد عمل کا اظہار کر دیا۔  یاد رہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے خلاف آج سپریم کورٹ میں نجی ٹی وی چینل جیو کی جانب سے دائر کی گئی توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران  چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ایسا شخص جسے یہ معلوم نہیں ہے کہ پبلک فورم پر کیا بولنا ہے، کیا ایسے شخص کو پارلیمنٹ میں ہونا چاہئیے؟ عام لوگوں کو ٹی وی کے ذریعے یہ سکھاتے ہیں؟چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیوں نہ عامر لیاقت حسین کی کامیابی کا نوٹی فکیشن معطل کر دیا جائے ۔

چیف جسٹس کے کہنے پر ڈاکٹر عامر لیاقت کے ایک پروگرام کا کلپ بھی عدالت میں چلوایاگیا جس میں انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کے مالک کے خلاف بھی توہین آمیز زبان استعمال کی تھی۔چیف جسٹس نے عامر لیاقت سے استفسار کیا کہ آپ نے توہین عدالت الفاظ کس کے لیے استعمال کیے؟ عامر لیاقت حسین نے عدالت کے سامنے بولنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اسٹیج پر نہیں کھڑے ، عدالت میں یہ ڈرامہ نہیں چلے گا۔

عدالت میں غلط بیانی اور توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر عامر لیاقت حسین کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے عامر لیاقت حسین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ دو ہفتوں میں جواب جمع کروانے کی ہدایت کر دی اور کیس کی مزید سماعت کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے خلاف اس کیس کے حوالے سے نجی ٹی وی چینل پر چلنے والی خبر کی ویڈیو آپ بھی ملاحظہ کیجئیے: