بجلی چوری کے خلاف فتویٰ دو ،مفت کی بجلی لو

جو مساجد بجلی چوری کرنے کے خلاف فتویٰ جاری کریں گی انہیں ماہانہ 400 یونٹس مفت فراہم کیے جائیں گے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس ہفتہ اگست 00:34

بجلی چوری کے خلاف فتویٰ دو ،مفت کی بجلی لو
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-10 اگست 2018ء) :بجلی چوری کے خلاف فتویٰ دو ،مفت کی بجلی لو۔سینٹ کی ذیلی کمیٹی میں تجویز دی گئی ہے کہ جو مساجد بجلی چوری کرنے کے خلاف فتویٰ جاری کریں ، انہیں ماہانہ 400 یونٹس مفت فراہم کیے جائیں ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کو ماضی میں توانائی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے باعث مقامی صنعت اور گھریلو صارفین کو سخت پریشانی کا سامن کرنا پڑا تا ہم سابقہ حکومت نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس پر کام کیا اور پھر ایک وقت میں یہ بھی کہا گیا کہ ملک بھر سے لوڈ شیڈڈنگ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور اب صرف ان سرکلز میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو گی جہاں بجلی کی چوری ہو گی ۔

اس کے علاوہ بھی لائن لاسز اور بجلی چوری کو پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کی اہم وجہ قرار دیا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

موجودہ صورتحال میں بجلی کی طلب اور رسد میں پائے جانے والے فرق پر بہت زیادہ قابو پالیا گیا ہے تاہم اب بھی بجلی چوروں کی وجہ سے حکام کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔حکام بھی بجلی چوروں سے تنگ آ گئے ۔ بجلی چوروں کے خلاف مذہبی رہنماوں سے فتویٰ لینے پر غور شروع کردیا گیا۔

کچھ عرصہ قبل پارلیمان سب کمیٹی نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ بجلی چوری روکنے کیلئے مذہبی رہنمائوں سے فتویٰ حاصل کیا جائے۔ سینئر نعمان وزیر خٹک نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بجلی چوری روکنے کیلئے ہمیں فتویٰ لینے اور شہریوں کو بتانے کی ضرورت ہے کہ روزمرہ استعمال اور کھانا وغیرہ بنانے کیلئے بجلی چوری کرنا حرام ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو بتانے کی ضرورت ہے کہ بجلی چوری سے دنیا اور آؒخرت دونوں ہی میں ان کا نقصان ہے۔

تاہم تازہ ترین خبر ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کی ذیلی کمیٹی نے ملک بھر میں بجلی کی چوری روکنے کے لیے انوکھی تجویز پیش کردی۔ ذیلی کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ سفارشات کے مطابق جو مساجد بجلی چوری کرنے کے خلاف فتویٰ جاری کریں گی انہیں ماہانہ 400 یونٹس مفت فراہم کیے جائیں گے۔ سفارشات کی دستاویز کہا گیا کہ فتویٰ میں شریعت کی رو سے بجلی چوری کے روزمرہ زندگی پر پڑنے والے منفی اثرات سے آگاہ کیا جائے گا۔