عام انتخابات کے نتائج کے بعد یہ ثابت ہو چکا ہے کچھ قوتیں ہم کو جمہوری عمل میںدیکھنا نہیں چاہتیں، سید جلال محمود شاہ

وفاقی حکومت کی حکمرانی کیلئے ایک پارٹی کو فائدہ دینے کی خاطر سندھ کے مینڈیٹ کو قربان کر کے پیپلز پارٹی کو پلیٹ میں رکھ کے پیش کیا گیا انتخابات2018مکمل طور پر انجیئرڈ تھے، سیاسی رہنما علی حسن چانڈیو کی پانچویں برسی کی تقریب سے خطاب

اتوار اگست 21:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اگست2018ء) سندھ یونائیٹڈپارٹی کے سر براہ سید جلال محمود شاہ نے کہا ہے کہ عام انتخابات کے نتائج کے بعد یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کچھ قوتیں ہم کو جمہوری عمل میںدیکھنا نہیں چاہتیں۔ اگر یہ روش رکھی گئی تو وہ دن دور نہیں کہ سندھ کے عوام کا جمہوری عمل سے اعتبار مکمل طور پر اٹھ جائے اور مجبورا ہمیں وہ راستہ اختیار کرنا پڑے جو سندھ کے اکثریتی عوام کی خواہش ہے۔

انتخابات2018مکمل طور پر انجیئرڈ تھے۔ وفاقی حکومت کی حکمرانی کے لئے ایک پارٹی کو فائدہ دینے کی خاطر سندھ کے مینڈیٹ کو قربان کر کے پیپلز پارٹی کو پلیٹ میں رکھ کے پیش کیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کوکراچی پریس کلب میں سندھ کے سیاسی رہنما مرحوم علی حسن چانڈیو کی پانچویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

برسی تقریب میںعوامی جمہوری پارٹی، نیشنل پارٹی، جیئے سندھ قومی محاذ اور دیگر پارٹیوں کے رہنماں، ادیبوں اور دانشوروں نے خطاب کر کے علی حسن چانڈیو کو خراج تحسین پیش کیا۔

سید جلال محمود شاہ نے کہا کہ انتخابات2018مکمل طور پر انجیئرڈ تھے۔انتخابات میں ہار جیت ہوتی ہے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔کارکن آج سے ہی بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں کریں ۔کارکن جہاں بھی ہیں عوام کے ووٹ درج کرائیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم سیاست اور جمہوریت سے مایوس نہیں ہیں۔سیاست میں کامیابیوں کیلئے نئے راستے اختیار کرنے ہونگے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن 2018 مائیکرو منیجڈ الیکشن تھی۔

وفاقی حکومت کی حکمرانی کے لئے ایک پارٹی کو فائدہ دینے کی خاطر سندھ کے مینڈیٹ کو قربان کر کے پیپلز پارٹی کو پلیٹ میں رکھ کے پیش کیا گیا، جس کا براہ راست فائدہ وفاق میں عمران خان اور سندھ میں آصف زرداری کو دیا گیا۔سید جلال محمود شاہ نے کہا کہ اگر رشورت کی اس ریس میں آر اوز، اے آر اوز اور ڈی آر اوز اسی طرح آگے بڑھتے گئے تو مستقبل کے انتخابات کسی بھی طرح سے شفاف نہیں ہو سکیں گی اور عوام کا جمہوری عمل سے اعتبار مکمل طور پر اٹھ جائے گا، جس کے نتائج میں ملک اندر خطرناک قسم کی انارکی پیدا ہو سکتی ہے اور مختلف اداروں کا آپس میں ٹکرا بھی ہوسکتا ہے۔

ایس یو پی نے ہمیشہ جمہوری قدروں کا احترام کیا ہے۔ البتہ عام انتخابات کے نتائج کے بعد یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کچھ قوتیں ہم کو جمہوری عمل میںدیکھنا نہیں چاہتیں۔ اگر یہ روش رکھی گئی تو وہ دن دور نہیں کہ سندھ کے عوام کا جمہوری عمل سے اعتبار مکمل طور پر اٹھ جائے اور مجبورا ہمیں وہ راستہ اختیار کرنا پڑے جو سندھ کے اکثریتی عوام کی خواہش ہے۔

انہوں نے لپا لپ سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کے کارکنان مایوس نہیں ہیں پر ایک سوال ان کے ذہنوں میں ضرور گردش کر رہا ہے کہ جمہوری سیاست کرنے پر ان کے سامنے رکاوٹیں کیوں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ سندھ یونائیٹیڈ پارٹی نے طے کیا ہے کہ الیکشن میں کی گئی داندھلی کے خلاف ہر قانونی راستہ اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ سندھ کے عوام کے پاس جائینگے اور بھرپور عوامی قوت سے سندھ کے قومی مفادات کے تحفظ، بہتر حکمرانی اور کرپشن کے خلاف ہر وقت میدان عمل میں رہینگے۔

سید جلال محمود شاہ نے کہا کہ علی حسن چانڈیو کا سندھ کی خوشحالی اور ترقی کے لئے انتہائی اہم موئثر کردار رہا ہے، جس کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکہا جائیگا۔ علی حسن چانڈیو ایک متحرک سیاسی رہنما تھے، جو ہمیشہ سیاسی جدوجہد میں پیش پیش رہے۔ دوہرے بلدیاتی نظام کے خاتمے، کراچی کے دیھی علائقوں کی مالکی اور ووٹر لسٹوں کے اندراج سمیت سندھ سے وابستہ تمام اشوز پر نہایت سرگرم رہے۔