راولپنڈی امراض قلب ہسپتال میں مستحق مریضوں کی بجائے نقد آمدن ترجیح بن گئی ،مریض رلنے لگے

اتوار اگست 21:40

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اگست2018ء) راولپنڈی امراض قلب ہسپتال میں مستحق مریضوں کی بجائے نقد آمدن ترجیح بن گئی ،مریض رلنے لگے ۔تفصیلات کے مطابق راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مستحق مریضوں کا علاج کرانا مشکل ترین عمل بنا دیا گیا ہے اور انہیں معمولی ٹیسٹوں کے لیے بھی گھنٹوں ایم ایس کے دفتر کے باہر منظوری کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے اور کئی کئی دن گذرنے کے باوجود ایم ایس موصوف مصروفیت کا کہہ کر ٹالتے رہتے ہیں ۔

راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں موجود مختلف مریضوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایاکہ انہیں مفت علاج کے حصول کے لیے مختلف لیٹرز ،فارمز کی تکمیل کے بعد ہسپتال کے سربراہ سے منظوری کے لیے بھیج دیا جاتا ہے جبکہ سربراہ ہسپتال کا سٹاف دھکے دیکر باہر نکال دیتا ہے ۔

(جاری ہے)

مریضوں نے بتایاکہ اس امر کی اطلاع ڈاکٹر قدوس اختر کو کی تو موصوف نے تلافی کے بجائے لیکچر دینا شروع کر دیاکہ وہ باقی سب کام چھوڑ دیں اور مستحق مریضوں کے کام کرنا شروع کردیں ۔

دوسری جانب واقفان حال کا کہنا ہے کہ آر آئی سی انتظامیہ اپنے قیام کے بنیادی مقاصد کو فراموش کرتے ہوئے محض پینل مریضوں او ر پرائیویٹ مریضوں کے چیک اپ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے کیونکہ پینل اور پرائیویٹ مریضوں کے چیک اپ اور علاج سے ہسپتال کو خطیر آمدن ہوتی ہے ۔عوام کے پیسے اور ٹیکسوں سے قائم عوام کے ہسپتال کی انتظامیہ مستحق مریضوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں کا سلوک کرنے لگی ہے اور انہیں مختلف ٹیسٹوں اور علاج کے لیے ذلیل و خوار کیا جانے لگا جبکہ انتظامی عہدوں پر بیٹھے افسران بھی غریبوں کو دھتکارنے لگے اور ان کی فریاد سننے سے انکاری ہو کر لیکچر جھاڑنے لگے ۔

گذشتہ روز بھی ڈاکٹر قدوس نے داد رسی کے لیے آنے والے مریض کو برا بھلا کہتے ہوئے کہاکہ ’’ میں ہسپتال کے سالانہ بجٹ و دیگر امور میں مصروف ہوں اور صرفایمرجنسی کی صورت میں مجھ سے رابطہ کیا جائے ‘‘ جس پر مریض دلبرداشتہ ہو کر ہسپتال سے چلا گیا ۔

متعلقہ عنوان :