مین بازار ٹیکسلا میں دن دھاڑے جیولرز کی دکانوں پر مسلح ڈاکوو ں کا دھاوا، یکے بعد دیگر جیولرز کی چھ دکانیں لوٹ لیں ، ڈاکوکروڑوں روپے مالیت کے طلائی زیورات لوٹ کرڈاکو ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے،سیکورٹی گارڈز کی جوابی فائرنگ سے دو ڈاکوں زخمی،واقعہ پر صراف برداری کا پر زور احتجاج دکانیں بند ، روڈ بلاک کردی

پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی

اتوار اگست 21:40

ٹیکسلا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اگست2018ء) مین بازار ٹیکسلا میں دن دھاڑے جیولرز کی دکانوں پر مسلح ڈاکوو ں کا دھاوا، یکے بعد دیگر جیولرز کی چھ دکانیں لوٹ لیں ، کروڑوں روپے مالیت کے طلائی زیورات لوٹ کرڈاکو ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے،سیکورٹی گارڈز کی جوابی فائرنگ سے دو ڈاکوں زخمی ،جمیل زرگر کا بیٹا حارث بھی زخمی پی او ایف واہ کینٹ ہسپتال منتقل ،واقعہ پر صراف برداری کا پر زور احتجاج دکانیں بند ، روڈ بلاک کردی،مسلح ڈاکووں نے آتے ہی بازار میں ہلچل مچادی اور فائرنگ جاری رکھی،جیولرز کی دکانوں کے شیشے توڑ کر زیوارت نکال لئے،پولیس نے فائرنگ کرنے پر متعدد سیکورٹی گارڈز کو حراست میں لے لیا،ڈاکووں کی فائرنگ سے علاقہ میں خوف و ہراس متعدد دکاندار دکانیں چھورڑکر بھاگ گئے،اطلاع کے باوجود پولیس موقع پر نہیں پہنچی،صراف برادری نے ڈکیتی میں پولیس کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کردیا، تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز دن تین بجے کے قریب نو مسلح ڈاکو مین بازار ٹیکسلا میں گھس آئے اور آتے ہی فائرنگ شروع کردی اس دوران انھوں نے لوگوں میں خوف وہراس پیدا کر کے جیولرز کی دکانوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا، اور یکے بعد دیگر جیولرز کی چھ دکانیںلوٹ لیں، جیولرز کے مطابق کئی سو کلو کو سونا لوٹا گیا جسکی مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے ، بند لاکروں کو توڑا گیا جبکہ الماریوں کے شیشے توڑ کر اس میں موجود طلائی زیوارت نکالے گئے،عینی شاہدین کے مطابق وہاں موجود سیکورٹی گارڈز نے بھی جوابی فائرنگ کی جنہیں ڈاکووں نے یرغمال بنا لیا تاہم سیکورٹی گارڈز کی جوابی فائرنگ سے دو ڈاکو زخمی ہونے کی بھی اطلاع ملی جو موقع سے باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے،ادہر واقعہ کے بعد تاجر برادری میں غم و غصہ کی لہر دور گئی ٹیکسلا شہر میں شٹر ڈاون ہڑتال کردی گئی ، جبکہ مشتعل تاجر برادی نے روڈ بلاک کر کے اپنا بھرپوراحتجاج ریکارڈ کرایا، احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صراف برادری کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ وہ سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں ٹیکسلا کی معیشت کا دارومدار صراف برادری پر ہے لیکن ہمیں کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا،انھوں نے انکشاف کیا کہ ڈکیتی کے دوران پولیس کو متعدد کالیں کیں گئیں مگر پولیس ٹس سے مس نہیں ہوئی اور جب ڈاکو واردات کر کے چلے گئے تو پولیس بھی پہنچ گئی،انکا کہنا تھا کہ پولیس جرائم پیشہ افراد کے ساتھ ملی ہوئی ہے،ڈاکووں کو پولیس کی آشیر باد حاصل ہے،آدھے گھنٹے تک پولیس کو فون کرتے رہے مگر پولیس خواب خرگوش کے مزتے لوٹتی رہی،ٹیکسلا شہر میں ہونے والی تمام وارداتوں میں پولیس مکمل طور پر ملوث ہے،ادہر یہ امر قابل زکر ہے کہ جمیل صراف کا جوانسال بیٹا حارث نامی زرگرڈاکووں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوا جسے فوری طبی امداد کے لئے پی او ایف ہسپتال کے ایمر جنسی وارڈ میں منتقل کردیا گیا،