محصورین بنگلہ دیش کے ذکر کے بغیر پاکستان کی تاریخ ادھوری ہے ،شرف الزماں

پاکستان کو بنانے اور بچانے میں بہاریوں نے دو مرتبہ آگ اور خون کے دریا عبور کئے مگر اس کے باوجود ہماری قربانیوں کو مسلسل پس پشت ڈال کے ہمیں ہمارے ہی وطن میں نظر انداز کیا جا رہا ہے

اتوار اگست 22:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اگست2018ء) محصورین بنگلہ دیش کے ذکر کے بغیر پاکستان کی تاریخ ادھوری ہے پاکستان کو بنانے اور بچانے میں بہاریوں نے دو مرتبہ آگ اور خون کے دریا عبور کئے مگر اس کے باوجود ہماری قربانیوں کو مسلسل پس پشت ڈال کے ہمیں ہمارے ہی وطن میں نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ پاکستان کی بنیادوں میں دو مرتبہ صرف بہاری قوم کے خون کا نذرانہ شامل ہے ان خیالات کا اظہار چیئر مین صدائے محصورین فائونڈیشن شرف الزماں نے کراچی پریس کلب پر ایک عظیم الشان جشن آزادی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بہاریوں نے پاکستان بنانے اور بچانے میںدوبار اپنی جان،مال و املاک کی لازوال قربانیاںدیں اور1971میں سابقہ مشرقی پاکستان میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ نہ صرف ہندوستانی فوج سے برسر پیکار رہے بلکہ مکتی باہنی کے غنڈوں کے خلاف بھی دلیری سے لڑے جس کے نتیجے میں بہاری سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش میں غدار ٹھہرائے گئے صرف یہی نہیں بلکہ ان کے کاروبار ، املاک جائیدادیں ضبط کر لی گئیں اور انہیں ریڈ کراس کے 66 کیمپوں میں جزوی طور پرمحصور کر دیا گیا اور آج 47 برس گذرنے کے بعد بھی محب وطن بہاری ان ہی کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں ان محب وطن بہاریوں کے لیے ہر آسائش اور ہر سہولت کو ان سے دور کر دیا گیا ہے اگر یہ بہاری آج پاکستان زندہ باد کا نعرہ ترک کر کے بنگلہ دیشی شہریت قبول کر لیںتو ان کی زندگی آسان سے آسان تر ہوجائے مگر سلام ہے ان محب وطن اسیر و محصور پاکستانیوں کو جنہوں نے تمام آسائشوں کو مسترد کر کے آج بھی بھوک و پیاس و کسمپرسی کی حالت سے بے نیاز ہو کر سبز ہلالی پاکستانی پرچم کو اپنے سینوں سے لگا رکھا ہے اور ان کے لبوں پر آج بھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ اور دل حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار ہے اور وہ اس آس اورامید پر زندہ ہیں کہ کبھی تو ان کے ہم وطنوں کو ان کی یاد آئیگی اور وہ انہیں باعزت، باوقار طریقہ سے پاکستان بلائیں گے شرف الزماں نے نومنتخب وزیر اعظم، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بار 14اگست یوم آزادی کے موقع پر ان محصورین پاکستانیوں کو نہ صرف وطن واپس لانے کا اعلان کیا جائے بلکہ جشن آزادی کے حوالے سے ان کی قربانیوں کا بھی سرکاری طور پر برملا اظہار کیا جائے اس موقع پر جشن آزادی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مشہور و معروف سماجی رہنما اور چیف پیٹرن فیروز خان نے کہا کہ الحمد للہ پاکستان میں تمام بڑے اور فیصلہ ساز عہدوں پر محب وطن شخصیات تعینات ہیں جن کے دلوں میں عام پاکستانی کا درد نظر آتا ہے میں آج اس عظیم الشان ریلی اور صحافی برادری کی موجودگی میں محصورین پاکستانیو ں کا کیس ان مقتدر شخصیات و حلقوں کے سامنے رکھتا ہوں اس امید پر کہ خدارا اب تو جلد از جلد ان محصور پاکستانیوں کو پاکستان بلایا جائے اور بچھڑے ہوئے خاندانوں کو ملایا جائے اور دنیاکو پیغام دیا جائے کہ پاکستان بھی دیگر ممالک کی طرح اپنے ہم وطنوںکوکبھی بے یار مددگار نہیں چھوڑتاصدائے محصورین فائونڈیشن کے سینئر وائس چیئرمین منصور عالم نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لئے دی جانے والی قربانیوں میں بہاری قوم سر فہرست ہے بہاری قوم کی قربانیوں کے ذکرکے بغیر قیام پاکستان اور بقاء پاکستان کی تاریخ ادھوری ہے اور زندہ قومیں اپنی تاریخ کی وارث ہوتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ آج کی ریلی یہ تاثر دیتی ہے کہ ہم بھی محب وطن پاکستانی ہیں ہمیں بھی اپنے جیسا سمجھا جائے جشن آزادی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اسلام الحق ملک نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان محصورین بنگلہ دیش کو پاکستان لانے میں مخلص ہے تو میں حکومت اور عام پاکستانیوں کو یہ ضمانت دیتا ہوں کہ بہاری پاکستان آکر نہ تو معیشت پر بوجھ بنیں گے اور نہ ہی کسی صوبہ اور ملک پر بلکہ یہ بہاری قوم وہ گوہر نایاب ہے جس سے پاکستان اور پاکستانیت مضبوط ہوگی ریلی سے دیگر مقررین جن میں محمد عمر، محمد ندیم انصاری ،پرویز احمد، محمد حبیب، حامد عبدالجواد ، محمد صادق اور سید وارث علی نے بھی خطاب کیااس موقع پر چیئر مین صدائے محصورین فائونڈیشن شرف الزماں نے دس قراردادیں پیش کیں جنہیں شرکاء ریلی نے بھر پور انداز میں ہاتھ اٹھا کرمنظور کیا ان قرار دادوں میں1 ۔

(جاری ہے)

پاکستان خصوصاً سندھ کراچی میں بہاریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو فوری طور پر ختم کیا جائی2 ۔بلاک کیے گئے تمام شناختی کارڈ کو فوری بحال کیا جائی3 ۔ نئے شناختی کے کارڈ کے حصول میں حائل تمام رکاوٹوں کو فی الفور ختم کیا جائی4۔ شناختی کارڈ نہ ہونے کے باعث نوکریوں سے نکالے گئے افراد کے فوری شناختی کارڈ بنائیے جائیں5 ۔ ہزاروں شہریوں کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا نوٹس لیا جائی6۔

چیف جسٹس آف پاکستان ، سو موٹو ایکشن،، لیں7۔شناختی کارڈ کے حصول کیلئے 1971 سے پہلے شناختی کاغذات کی فراہمی کا مطالبہ فی الفور ختم کیا جائی8۔۔چیف جسٹس سے نادرا حکام کا محاسبہ کرنے کا مطالبہ9 ۔شناختی کارڈ میں غیر ضروری تاخیری حربوں کا نوٹس لیا جائی10۔ نادار کی جانب سے محب وطن بہاریوں کو شناختی کارڈ جاری نہ کرنے سے معاشرتی توازن بگڑ رہا ہے متوقع وزیر اعظم ، چیف جسٹس آف پاکستان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ شامل تھا ریلی کے ہزاروں شرکاء نے مختلف قسم کے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پرمتوقع وزیر اعظم عمران خان ، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ کی تصاویر کے ساتھ مطالبات درج تھے جن میں 47برس گزر جانے کے باوجود بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کو پاکستان نہ لایا جا سکا،ہم بھی محب وطن پاکستانی ہیں، WE WANT JUSTICE ،ہمیں ہماری قربانیوں کا انصاف دو، ہمیں انصاف چاہئیے، اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں،،پاکستان بنایا تھا پاکستان بچایا تھا پاکستان کو خوشحال بنائیں گے، محمد خان جونیجو کی حکومت میں قومی بجٹ میں محصورین کی آبادکاری کے لیے فنڈ رکھا جاتا رہا ہے اس فنڈ کا حساب دیا جائے، رابطہ ٹرسٹ فنڈ کا حساب دیا جائے،ریلی میں ایک بڑے بینر کے ذریعے عمران خان کو وزیر اعظم منصب سنبھالنے پر پیشگی مبارکباد بھی دی گئی، تمام شرکاء ریلی نے سبز ہلالی قومی پرچم اٹھا رکھا تھا اور اپنے رہنمائوں کی تقاریر کے دو ران وہ پاکستانی پرچم لہراتے رہے۔