اپوزیشن کے اتحاد کا شیرزاہ کیسے بکھرا،پاکستانی سیاست میں بھونچال برپا کر دینے والی خبر آگئی

مسلم لیگ ن والے آصف زرداری کی بجائے نچلی سطح پر معاملات طے کرنا چاہتے تھے ،مسلم لیگ ن والوں نے یوسف رضا گیلانی کو صدارت کی پیشکش بھی کی ،جس پر معاملات خراب ہو گئے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعرات اگست 22:43

اپوزیشن کے اتحاد کا شیرزاہ کیسے بکھرا،پاکستانی سیاست میں بھونچال برپا ..
لاہور (اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار-16 اگست 2018ء) :اپوزیشن کے اتحاد کا شیرزاہ کیسے بکھرا،پاکستانی سیاست میں بھونچال برپا کر دینے والی خبر آگئی۔ مسلم لیگ ن والے آصف زرداری کی بجائے نچلی سطح پر معاملات طے کرنا چاہتے تھے ،،مسلم لیگ ن والوں نے یوسف رضا گیلانی کو صدارت کی پیشکش بھی کی ،جس پر معاملات خراب ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق انتخابات کے بعد بننے والا اپوزیشن کا اتحاد کچھ عرصہ چلنے کے بعد آج پارا پارا ہوگیا۔

پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کی وزارت اعظمیٰ کے لیے نامزدگی پر سوال اٹھا یا تو مسلم لیگ ن بھی ڈٹ گئی اور وزارت اعظمیٰ کے لیے کسی بھی اور شخص کو قبول کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد پیپلز پارٹی نے وزارت اعظمیٰ کے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کردیا۔یہ سب معاملات اس نہج پر کیسے پہنچے ،،حامد میر نے تہلکہ خیز انکشاف کر ڈالا۔

(جاری ہے)

معروف صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد سے شہباز شریف کا رویہ بڑا عجیب تھا۔

انتخابات کے بعد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں جب یہ طے پایا کہ وزارت اعظمیٰ کا امیدوار مسلم لیگ ن اور اسپیکر کا امیدوار پیپلز پارٹی سے ہوگا تو مسلم لیگ ن نے آصف زرادری اور بلاول بھٹو کو بائی پاس کرتے ہوئے نچلی سطح پر معاملات طے کرنے کی کوشش کی ۔یہانتک کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو کہا گیا کہ وزیر اعظم مسلم لیگ ن کا ہوگا تو صدر یوسف رضا گیلانی ہوں گے۔

یہ سارے معاملات آصف زرداری کی رضا مندی کے بغیر طے پائے اور اس دوران پیپلز پارٹی نے آصف زرداری سے رابطے کی کوشش کی جو نہیں ہو سکا تھا ۔جس پر کل جماعتی کانفرنس کے اختتام پر پیپلز پارٹی کی شیری رحمان نے خود سے اعلانات کر دئیے کہ وزارت اعظمیٰ کا امیدوار مسلم لیگ ن اور اسپیکر کا امیدوار پیپلز پارٹی سے ہوگا۔اس پر بعد میں زرداری نے اعتراض کیا۔۔حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ اس سارے معاملے میں آصف زرداری چاہتے تھے کہ شہباز شریف چل کر میرے پاس آئیں لیکن شہباز شریف نے اس سارے معاملے کو آصف زرداری کی ہٹ دھرمی قرار دے دیا جس کے بعد معاملات خراب ہو گئے اور اپوزیشن کا اتحاد خراب ہو گیا۔