عمران خان کی وزیراعظم بننے کے بعد بیوروکریسی میں پہلی بڑی تبدیلی

انور منصور اٹارنی جنرل مقرر، انور منصور پاک فوج کیپٹن رہے، 1971 میں پاک بھارت جنگ میں حصہ لیا اور جنگی قیدی بن کر بھارت گئے، 2002 میں سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل مقرر ہوئے اور2007ء میں استعفیٰ دیدیا

muhammad ali محمد علی ہفتہ اگست 21:10

عمران خان کی وزیراعظم بننے کے بعد بیوروکریسی میں پہلی بڑی تبدیلی
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اگست2018ء) سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور کو ایک بار پھر اٹارنی جنرل مقرر کر دیا گیا،انور منصور پاک فوج کیپٹن رہے، 1971میں پاک بھارت جنگ میں حصہ لیا اور جنگی قیدی بن کر بھارت گئے،انور منصور خان 2002 میں سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل مقرر ہوئے اور2007ء میں استعفیٰ دیدیا۔تفصیلات کے مطابق عمران خان کی جانب سے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالے جانے کے بعد سے حکومت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

وفاقی کابینہ کے اعلان کے بعد اب نو منتخب حکومت کی جانب سے انور منصور خان کو اٹارنی جنرل آف پاکستان مقرر کر دیا گیا ہے۔انور منصور خان خالد جاوید کی جگہ اٹارنی جنرل کا عہدہ سنبھالیں گے۔انور منصور خان نے اپنے کرئیر کی ابتدا پاک فوج میں بطور کیپٹن کے کی اور انہوں نے 1971 میں پاک بھارت جنگ میں بھی حصہ لیا اور جنگی قیدی بن کر بھارت بھی گئے۔

(جاری ہے)

انور منصور خان کے والد منصور خان سپریم کورٹ کے سینئر وکیل تھے۔1974 میں فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انور منصور نے بھی اپنے والد کے پیشے کو اپنایا اور 1981 میں وکالت شروع کی۔انور منصور خان کو 1983 میں ہائی کورٹ کے لیے چنا کیا گیا جب کہ 2000 میں انہیں سندھ ہائی کورٹ کا جج مقرر کر دیا گیا مگر اگلے ہی سال وہ مستعفی ہو گئے،دو ہزار دو میں انہیں سندھ کا ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیا گیا مگر اس عہدے سے بھی انہوں نے 2007 میں استعفیٰ دے دیا۔

انہوں نے جنرل ریٹائڑڈ پرویز مشرف کی جانب سے جاری کیے گئے عبوری آئینی حکم ( پی سی او)کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور اسے سپریم کورٹ کی جانب سے تین نومبر کو جاری کردہ حکم نامے کے متصادم قرار دیا۔انور منصور خان پاکستان بار، سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار کے رکن بھی رہے۔پاکستان میں کمپنیز آرڈیننس کی تیاری اور اسلامی بینکنگ رائج کرانے میں بھی انور منصور خان نے اہم کردار ادا کیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے انور منصور خان کے ریفرنس پر سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس افضل سومرو کو بد عملی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف دائر کارروائی کی سفارش کی۔آپ لطیف کھوسہ کی جگہ پاکستان کے اٹارنی جنرل بنے مگر مارچ 2010 میں این آر او کیس میں وزارت قانون کی طرف سے عدم تعاون کی بنیاد پر اس عہدے سے بھی استعفیٰ دے دیا۔