گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں ن لیگ کے شدید احتجاج کی ماسٹر مائنڈ مریم نواز نکلیں

شہباز شریف پارٹی صدر ہونے کے باوجود کنٹرول کھو چکے ہیں، مریم نواز جیل میں ہونے کے باوجود پارٹی کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں: تجزیہ کار مبشر زیدی

muhammad ali محمد علی ہفتہ اگست 21:34

گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں ن لیگ کے شدید احتجاج کی ماسٹر مائنڈ ..
اسلام آباد (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔18 اگست 2018ء) گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں ن لیگ کے شدید احتجاج کی ماسٹر مائنڈ مریم نواز نکلیں، شہباز شریف پارٹی صدر ہونے کے باوجود کنٹرول کھو چکے ہیں، مریم نواز جیل میں ہونے کے باوجود پارٹی کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں: تجزیہ کار مبشر زیدی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اپنے عہدے کا حلف اٹھا چکے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے ہفتے کے روز ایوان صدر میں وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا۔ صدر مملکت ممنون حسین نے وزیراعظم عمران خان سے وزارت عظمیٰ کا حلف لیا۔ اس سے قبل عمران خان گزشتہ روز ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم منتخب کیے گئے تھے۔ تحریک انصاف کے سربراہ اور وزیراعظم عمران خان کو قومی اسمبلی کے 176 اراکین نے ووٹ دے کر وزیراعظم منتخب کیا۔

(جاری ہے)

تاہم قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ووٹنگ ختم ہونے اور عمران خان کی فتح کا اعلان ہونے کے فوری بعد مسلم لیگ ن ایوان کے اندر طوفان بدتمیزی برپا کردیا تھا۔ مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی نے ایوان کا تقدس پامال کرتے ہوئے شکست قبول کرنے سے انکار کر دیا اور غیر اخلاقی اور جارحانہ انداز میں وزیراعظم عمران خان کی نشست کا گھیراو کرکے شدید ہنگامہ آرائی کی۔

اس صورتحال کے باعث وزیراعظم عمران خان اپنی فاتحانہ تقریر بہتر انداز میں کرنے سے قاصر رہے۔ اس حوالے سے اب معروف تجزیہ کار مبشر زیدی کی جانب سے دلچسپ انکشاف کیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے مبشر زیدی نے انکشاف کیا کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ہونے والے احتجاج کی ماسٹر مائنڈ مریم نواز تھیں۔ شہباز شریف گزشتہ روز کے احتجاج کے حق میں نہیں تھے۔

تاہم پارٹی کے رہنما اب ان کے بات ماننے سے انکار ہیں۔ مریم نواز جیل میں موجود ہیں، تاہم اب بھی پارٹی پر ان ہی کا کنٹرول ہے۔ گزشتہ روز جو کچھ ہوا وہ سب بھی مریم نواز کے ٹولے نے ہی کیا۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ کی تاریخ میں وزیراعظم کے انتخاب کے بعد اس قسم کی صورتحال کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ یہ پہلا موقع تھا جب اپوزیشن جماعت نے سپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ایوان میں طوفان بدتمیزی برپا کردیا۔